اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی بازیابی کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیاجس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرعافیہ سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی وزارت خارجہ کی رپورٹ میں کہاکیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ سمجھتی ہیں ان کا خاندان زندہ نہیں ہے۔اسلا م آباد ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے 24جون کو ہونے والی سماعت کادو صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کیا ہے۔فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ وزرت خارجہ نے 20جون کوعدالت میں رپورٹ جمع کرائی ہے وزارت خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فیڈرل میڈیکل سنٹرمیں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمجھتی ہیں کہ ان  کا خاندان زندہ نہیں ہے اور میڈیکل سنٹر کے وارڈن نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کوان کی رضامندی کے بغیرفون کال کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے وزارت خارجہ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فیملی کو امریکا کا ویزہ دلانے میں سہولت فراہم کرنے اورامریکا میں ڈاکٹر عافیہ کی فیملی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔ دفترخارجہ کے افسر کو عافیہ صدیقی کے خاندان کو اپنا رابطہ نمبر دینے کا حکم بھی دیا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ سمجھتی ہیں کہ ان کی فیملی زندہ نہیں اور امریکہ میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل نے فیڈرل میڈیکل سینٹر کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹر عافیہ قید ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فیڈرل میڈیکل سینٹر کی وارڈن کا کہنا ہے کہ عافیہ صدیقی کال نہ کرنا چاہیں تو زبردستی نہیں کرسکتے۔وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر نے کہا عافیہ صدیقی فیملی کو امریکی ویزہ دلانے کی پوری کوشش کریں گے تاہم ویزا ملنے کی گارنٹی نہیں کیونکہ حتمی فیصلہ امریکی حکومت کا ہوگا۔کیس کی مزید سماعت 5اگست2022تک ملتوی کی ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے