پبی (مانند نیوز ڈیسک) جمعیت علما اسلام (س)کے سربراہ اوردفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین و نائب مہتمم جامعہ دارالعلوم حقانیہ مولانا حامد الحق حقانی نے وفاقی شرعی عدالت کے سود کیخلاف فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی،مولانا حامد الحق حقانی نے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک اور دیگر چار نجی بینکوں کا وفاقی شرعی عدالت کا سود کیخلاف فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا در اصل اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام سے کھلی بغاوت اور جنگ کے مترادف ہے اور اس عمل سے ہمارا ملک وملت خدانخواستہ اور بدحال ہوگا،سودی سسٹم نے دنیا بھر کے یہودونصاریٰ نے آئی ایم ایف و ایف اے ٹی ایف کی شکل میں ہمیں پہلے سے سخت شکنجے میں جکڑا ہوا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ مردان میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا حامد الحق حقانی نے مزید کہاکہ حکمرانوں اور منافق سیاستدانوں کی طرف سے پاکستانی قوم شدید مہنگائی کی چکی میں پہلے ہی سے پس رہی ہے، مسلمانوں کو وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے سے ایک امید کی کرن نظر آئی ہے،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اس میں انوالو ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پورا حکومتی سسٹم بشمول قومی و مذہبی سیاسی جماعتیں سود کو حلال قرار دینا چاہتی ہیں،ہماری جماعت یکسر اسے مسترد کرتی ہے۔قرآن میں واضح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سودی سسٹم اللہ اور رسول? کے ساتھ اعلان جنگ ہے، مولانا حامد الحق حقانی نے کہاکہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور فوری اللہ رب العزت سے توبہ واستفغار کرکے رجوع الی اللہ کرے اور اسٹیٹ بینک فوری سپریم کورٹ سے نظرثانی اپیل واپس لے اور قوم ایسے سودی اداروں اور بینکوں کا مکمل بائیکاٹ کریں،قوم مہنگائی اور کرپٹ لیڈرشپ کے خلاف بغاوت پر اتر آئی ہے، مزید پاکستان کو سیاسی اور معاشی دلدل میں نہ دھکیلا جائے، مولانا حامد الحق حقانی نے کہاکہ پاکستان مزید اس جیسے کافرانہ اور ظالمانہ تجربات اور ظلم کا متحمل نہیں ہوسکتا، تمام علماء،دینی قومی مذہبی سیاسی جماعتوں کو،بڑے دینی مدارس،مفتیان عظام اور وفاقوں کوایک پیج پر جمع ہوکر اس کے خلاف متحدہ آواز بلند کرنی چاہیے، تاکہ اللہ ہماری قوم سے اور امت مسلمہ سے راضی ہوسکے، حکمران خود پرتعیش زندگی بسر کررہے ہیں جبکہ پاکستانی قوم کو لوڈشیڈنگ،مہنگائی اور غیر سیاسی استحکام کے تحفے پے در پے دے رہے ہیں