اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ معیشت تباہ ہوتی ہے تو ملک غیر محفوظ ہوتا ہے اور یہی امریکہ چاہتا ہے۔پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتار نہیں اغوا کیا گیا تھا اور انکوائری کمیشن نے پوری طرح میرا موقف سنا، اب کمیشن کا اگلا اجلاس 14 تاریخ کو ہوگا جس میں آئی جی اسلام آباد پولیس کو بھی طلب کیا گیا۔ کمیشن نے نوٹ کیا کہ میری گرفتاری سے متعلق پولیس رپورٹ نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نئے الیکشن کی تاریخ دی جائے تاکہ نئی حکومت پالیسیز بنائے اور اگر الیکشن کی تاریخ دے دی جاتی ہے تو بہت سے معاملات پر بات کی جا سکتی ہے۔شیریں مزاری نے کہا کہ اگلا اجلاس 14 جولائی کو ہو گا لیکن قومی اسمبلی مذاق بن گئی کیونکہ سب سے بڑی پارٹی باہر آگئی۔ عمران خان کے جلسے میں بارش کے باوجود بھی عوام آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا کے کہنے پر رجیم تبدیل کراکے راستہ روک دیاگیا، کیا ان چوروں کو این آر او دینا رجیم چینج کا مقصد تھا؟ کیا ہم نے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے اور بھارت کے ساتھ تجارت کرنا ہے؟ معیشت تباہ ہوتی ہے تو ملک غیر محفوظ ہوتا ہے اور یہی امریکہ چاہتا ہے، دفاع کرنے والے اداروں کو پاکستان کا دفاع کرنا چاہیے۔۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب اداروں کی عزت کرتے ہیں اور کسی ادارے پر حملہ نہیں کررہے، ان اداروں اورہینڈلرز سے سوال ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔سابق وزیر نے کہا کہ فروغ نسیم نے ایک کرمنل لا کا کلاز ڈالا تھا، کابینہ نے اس کو ریجیکٹ کردیا تھا اور فروغ نسیم نے وہ بل ہی ٹیبل نہیں کیا، ہم نے کوئی ایسا قانون نہیں بنایا تھا۔