پشاور (مانند نیوز) خیبرپختونخوا حکومت کے سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ ذکاء اللہ خٹک نے بدھ کے روز خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کا دورہ کیا، جہاں انہیں چیف انفارمیشن کمشنر مسز فرح حامد خان نے سیکریٹری انفارمیشن کو کمیشن کے کامیابیوں اور دیگر اہم امور کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ اس وقت کمیشن نے GIZ، گورننس اینڈ پبلک پالیسی (پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پروجیکٹ) اور دیگر سماجی شعبے کی تنظیموں کے ساتھ خیبر پختونخوا میں خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے MOUs پر دستخط کیے ہیں۔ جس میں 10 اضلاع میں پبلک انفارمیشن آفیسرز (PIOs) کی استعداد کار میں اضافہ، معلومات کے لیے درخواستوں کی ای فائلنگ کی تربیت، سرکاری ملازمین، سول سوسائٹی کی تنظیموں کو آر ٹی آئی قانون کے حوالے سے تربیت اور تعلیمی اداروں کے لیے آگاہی شامل ہیں۔چیف کمشنر نے بتایا کہ کمیشن نے GIZ کے تعاون سے ستمبر 2021 سے اب تک ریڈیو پختونخوا ایف ایم 92.2، اباسین ریڈیو اور ریڈیو پاکستان سے 45 ریڈیو ٹاک شوز نشر کیے ہیں اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ کمیشن نے پرنٹ میڈیا میں اشتہارات بھی شائع کیے ہیں تاکہ عوام کو اس قانون کے فوائد سے آگاہ کیا جا سکے۔اس کے علاوہ سوات، ایبٹ آباد، کوہاٹ اور بنوں میں اپیلیٹ دفاتر/ بنچ کام کر رہے ہیں۔ یہ دفاتر شکایت کنندگان کو ان کی شکایات سننے میں پشاور کی بجائے ڈویژنل سطح پر سہولت فراہم کرتے ہیں۔سیکرٹری اطلاعات نے کمیشن کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ انفارمیشن کمیشن حکومت اور عوام دونوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بروقت معلومات کی فراہمی میں کمیشن کا کردار بہت اہم ہے۔انہوں نے انفارمیشن کمیشن کے کردار کو شفافیت اور حکومت کے کام کو یقینی بنانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی انفارمیشن کمیشن کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عوام کی بہترین طریقے سے خدمت کی جا سکے.