اسلام آباد (مانند نیوز)اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد نے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے منصوبے کی مخالفت کی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں دو اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مطابق اسرائیلی ایجنسی موساد، اسرائیلی آرمی چیف اور کئی دیگر اسرائیلی حکام نے دوحہ حملے سے انکار کر دیا تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا کہ موساد نے تجویز دی تھی کہ قطر میں حماس رہنماؤں کو نشانہ نہ بنایا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات اور ان کے قطر کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے نیتن یاہو کے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے منصوبے کی حمایت کی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسرائیل نے قطر پر فضائی حملہ شن بیٹ سیکیورٹی سروس کے ساتھ مل کر کیا اور شن بیٹ کمانڈ سینٹر سے اس حملے کی مکمل نگرانی بھی کی گئی۔

اسرائیل کا قطر میں فضائی حملہ، حماس کی مرکزی قیات ہدف تھی

رپورٹ کے مطابق نطزان ایلون جو اسرائیلی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے انہیں بھی اس آپریشن کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملے کیے، صہیونی فوج کا ہدف فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی مرکزی قیادت تھی۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ دوحہ میں حماس کے مذاکراتی رہنماؤں کو دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے