پشاور (مانند نیوز) ڈسٹرکٹ پبلک ہیلتھ کوارڈینیٹر مردان ڈاکٹر روبینہ ریاض نے کہا ہے کہ ملیریا ایک خطرناک اور قابلِ تدارک مرض ہے، جو بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی صورت میں شہریوں کی صحت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ ملیریا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے عوام میں شعور اجاگر کرنا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اپنے ایک پیغام میں ڈاکٹر روبینہ ریاض نے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے ضلع مردان کے مختلف علاقوں میں ملیریا سے بچاؤ اور اس کے خاتمے کے حوالے سے بھرپور آگاہی مہم جاری ہے، جس کا مقصد شہریوں کو بیماری کی وجوہات، علامات، احتیاطی تدابیر اور بروقت علاج کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملیریا مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ہے، اس لیے اس کے تدارک کے لیے مچھروں کی افزائش کے مقامات کا خاتمہ، گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ شہری اپنے گھروں اور محلوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں کیونکہ کھڑا پانی مچھروں کی افزائش کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ڈاکٹر روبینہ ریاض نے عوام پر زور دیا کہ ملیریا کی ممکنہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں غفلت نہ برتی جائے بلکہ فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بیماری کی بروقت نشاندہی اور مناسب علاج سے پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ڈسٹرکٹ پبلک ہیلتھ کوارڈینیٹر نے کہا کہ ملیریا کے خلاف جاری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے صرف محکمہ صحت کی کوششیں کافی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، آگاہی پیغامات کو اپنے خاندان، دوستوں اور دیگر افراد تک پہنچائیں اور اپنے اردگرد صفائی کا خصوصی خیال رکھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں ملیریا کے حوالے سے آگاہی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس مرض سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ اجتماعی کوششوں اور عوامی تعاون سے ملیریا کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں کم کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر روبینہ ریاض نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت عوام کو ملیریا سمیت مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی اور حفاظتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گا، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے شہریوں کا تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔