اسلام آباد (مانند نیوز) سائنسدانوں نے برطانیہ کے علاقے یارکشائر میں موجود 4 ہزار سال پرانے 3 دیوہیکل پتھروں کے معمے کو حل کر لیا، جنہیں ’شیطانی تیر‘ کہا جاتا ہے۔

ہر ایک پتھر 25 ٹن سے زیادہ وزنی اور 23 فٹ تک بلند ہے۔

 ماہرین کے مطابق قبل از تاریخ دور میں انہیں تعمیر کرنے والوں نے کسی طرح کم از کم 11 میل دور سے منتقل کر کے بورو برج کے قریب نصب کیا تھا۔

کئی برسوں تک محققین اس بات کا تعین نہیں کر سکے کہ یہ دیوہیکل پتھر اصل میں کہاں سے لائے گئے تھے اور آیا انہیں انسانوں نے منتقل کیا تھا یا گلیشیئرز انہیں اس مقام کے قریب لے آئے تھے۔

نئی تحقیق میں ان پتھروں کا تعلق شمالی یارکشائر کے برمہم راکس سے ثابت ہو گیا ہے۔

محققین نے پتھروں سے حاصل کیے گئے انتہائی چھوٹے معدنی ذرات کی آئسوٹوپک جانچ کی اور ان کا موازنہ قریبی چٹانی ساختوں سے کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ’شیطانی تیر‘ تقریباً 18 کلو میٹر دور واقع برمہم راکس سے لائے گئے تھے، حالانکہ اس سے کہیں قریب بھی موزوں پتھر دستیاب تھے۔

اس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قبل از تاریخ دور کے لوگوں نے جان بوجھ کر ان بھاری بھرکم پتھروں کو یارکشائر کے مختلف علاقوں سے منتقل کیا تھا۔

تحقیق کے مصنف ڈاکٹر انتھونی کلارک کے مطابق ہر پتھر کا وزن 25 ٹن سے زیادہ ہے، لہٰذا انہیں منتقل کرنے کے لیے غیر معمولی منصوبہ بندی، باہمی تعاون اور انجینئرنگ کی مہارت درکار ہو گی۔

تاہم ماہرین اب بھی یہ معلوم نہیں کر سکے کہ ہزاروں سال پہلے ان دیوہیکل پتھروں کو کس طریقے سے منتقل کیا گیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ’شیطانی تیر‘ کہلانے والے یہ پتھر نو پاشستانی دور (نئے پتھر کے دور) کے آخری زمانے یا ابتدائی کانسی کے دور میں ممکنہ طور پر تقریباً 2000 قبل مسیح میں نصب کیے گئے تھے، باقی رہ جانے والے 3 پتھر برطانیہ میں قبل از تاریخ دور کے سب سے بلند کھڑے پتھروں کی قطار بناتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے ایک اور معمہ بھی حل کر لیا، تاریخی ریکارڈز کے مطابق وہاں کبھی کم از کم چوتھا پتھر بھی موجود تھا، جو کئی صدیوں قبل غائب ہو گیا تھا۔

معدنیاتی جانچ سے اب تصدیق ہو گئی ہے کہ گمشدہ پتھر کا ایک حصہ قریبی علاقے الڈبورو میں قرونِ وسطیٰ کے دور کے بیٹل کراس کی تعمیر میں دوبارہ استعمال کیا گیا تھا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے