اسلام آباد (مانند میڈیا) وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے عدالتی بالادستی برقرار رکھنے، آئینی اصولوں کے مطابق قانون کی تشریح اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی کیلئے پُرعزم ہے۔وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بلوچستان بار کونسل کے چھ رکنی وفد نے 14 اکتوبر 2026ء کو وفاقی آئینی عدالت کا دورہ کیا اور چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر عدالت کے رجسٹرار محمد حفیظ اللہ خان اور سیکرٹری مظہر جاوید بھٹی بھی موجود تھے۔وفد میں پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد خان کاکڑ، بلوچستان بار کونسل کے وائس چیٔرمین جدین دشتی، چیٔرمین ایگزیکٹو کمیٹی ایاز خان مندوخیل اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان محمد افضل ہریفل، نجیب اللہ کاکڑ اور نادر علی چلغاری شامل تھے۔ملاقات کے دوران چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے آئینی مینڈیٹ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی بالادستی کا تحفظ، آئینی معاملات کی مؤثر تشریح اور قانون کی حکمرانی کا فروغ عدالتی نظام کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی کیلئے آئینی اصولوں کے مطابق کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ملاقات میں پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام کی خوبیوں اور اسے درپیش چیلنجز پر تبادلہ? خیال کیا گیا۔ چیف جسٹس اور وفد نے عدالتی نظام کی کارکردگی بہتر بنانے، شفافیت کو فروغ دینے اور عوام کا اعتماد مضبوط کرنے کیلئے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر قانونی امور، عدالتی نظام کی بہتری اور انصاف کی مؤثر فراہمی سے متعلق باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ گفتگو میں عدلیہ اور قانونی برادری کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ادارہ جاتی سالمیت برقرار رکھنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔بلوچستان بار کونسل کے وفد نے چیف جسٹس امین الدین خان کو بلوچستان بار کونسل کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔ ملاقات کا اختتام پاکستان کے نظامِ انصاف کو مضبوط بنانے، عدلیہ اور قانونی برادری کے درمیان تعاون بڑھانے، عوام کو بہتر عدالتی خدمات فراہم کرنے اور آئینی نظام پر اعتماد مستحکم کرنے کے مشترکہ عزم کے اظہار کے ساتھ ہوا