اسلام آباد (مانند میڈیا) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان کی توثیق کر دی۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے متعلقہ دستاویزات اور تحریک پیش کیں، جس کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ‘گورنر راج نامنظور’ اور ‘ایمرجنسی نامنظور’ کے نعرے لگائے۔ اجلاس میں حکومتی اقدام کے آئینی جواز، صوبائی خودمختاری، دہشت گردی کی صورت حال اور سیاسی مذاکرات کے امکانات پر بحث ہوئی۔ مشترکہ اجلاس میں چیٔرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر حکومتی و اپوزیشن ارکان شریک ہوئے۔ اپوزیشن ارکان بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ایوان میں آئے اور ووٹنگ کے عمل پر اعتراض کرتے ہوئے ارکان کی گنتی کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر نے گنتی کی ہدایت کی۔ رپورٹس کے مطابق متعلقہ تحریک کے حق میں 214 اور مخالفت میں 56 ووٹ پڑے،پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ارکان نے قرارداد کی حمایت کی، تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی جبکہ اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے ‘گورنر راج نامنظور’ کے نعرے لگائے ،اپوزیشن کی جانب سے اجلاس کے دوران احتجاج کیا گیا۔ اس سے قبل وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اعلان کے کاغذات آئین کے آرٹیکل 232 کی شق 7 کے تحت، جبکہ گورنر راج سے متعلق دستاویزات آرٹیکل 234 کی شق 3 کے تحت مشترکہ اجلاس میں پیش کیں۔ ان اقدامات کی توثیق کے لیے ایوان میں قراردادیں پیش کی گئیں، جن کے بعد بحث کا آغاز ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوس ناک واقعے کا ذکر کیا اور جاں بحق بچوں اور دیگر متاثرین کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی۔ ایوان میں فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بات ہو چکی ہے اور اب مشترکہ اجلاس بلانا آئینی تقاضا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی معاملات آئین کے تحت چلائے جاتے ہیں اور صوبے کے انتظامی و قانون سازی امور کے لیے آئینی طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے حکومتی اقدام کو 12 اکتوبر کے واقعات سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اسلام آباد اور پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس ہوتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک ہی روز لکی مروت، ٹانک اور باجوڑ میں دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، ایسے حالات میں سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ریاستی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بحرانی صورت حال میں وزیراعلیٰ کو زخمیوں اور متاثرین کی مدد کے لیے اسپتالوں میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے صوبے میں امن و امان اور قومی سلامتی کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدامات کیے۔ وفاقی وزیر قانون کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا نے صدر مملکت کو تفصیلی خط کے ذریعے صوبے کے حالات سے آگاہ کیا، جس میں قومی سلامتی سے متعلق رپورٹس بھی شامل تھیں۔ ان کے بقول وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق تجاویز دیں اور متعلقہ آئینی کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے معاملات چلانے کے لیے آئینی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا نفاذ مخصوص آئینی حالات میں کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن کے سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین ملک ٹوٹنے کے بعد بڑی مشکل سے تشکیل دیا گیا تھا اور قومی مسائل کا حل آئینی اصولوں پر عمل درآمد میں ہے۔ محمود اچکزئی نے حکومت کو غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی قوتیں بیٹھ کر طے کریں کہ پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی اور ملک آئین کے مطابق چلایا جائے گا۔ انہوں نے صوبوں کو ان کے وسائل پر حق دینے اور سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے صورت حال پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک سہیل آفریدی کا پتہ نہیں چلتا، وہ مذاکرات نہیں کریں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کو اغوا کیا گیا اور سیاسی کارکنوں پر تشدد ہوا۔اپوزیشن لیڈر نے سوال اٹھایا کہ کیا احتجاج کرنا جرم ہے اور سیاسی اختلافات کا جواب طاقت کے استعمال سے دیا جانا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعتوں کا مشترکہ محاذ بنایا جائے گا اور آئین کی بالادستی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔ محمود اچکزئی نے دہشت گردی کے معاملے پر حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور خطے سے متعلق ماضی کے ریاستی فیصلوں کو بھی موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو کسی ایک سیاسی رہنما یا صوبائی حکومت تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ صوبے کے پانی اور معدنی وسائل پر قبضے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے وسائل کا تحفظ اور ان کے حقوق کی ضمانت ضروری ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مارشل لا کے ادوار میں سیاسی کارکنوں اور جمہوری قوتوں کو سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اپوزیشن کی مذاکراتی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت مذاکراتی عمل میں مؤثر طور پر شامل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر نے دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ساتھ تعاون کی بات کی تھی، جبکہ اپوزیشن کے پانچ میں سے تین مطالبات تسلیم کیے جانے کو مذاکراتی عمل کی پیش رفت قرار دیا جا سکتا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن قیادت نے مذاکرات کے بجائے لانگ مارچ کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سیاسی عمل کا حصہ رہے ہیں اور ان سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، تاہم قومی سلامتی اور ریاستی امور پر فیصلے قومی سطح پر کیے جاتے ہیں۔ شیری رحمان نے واضح کیا کہ کسی ایک صوبے کی اپنی الگ خارجہ پالیسی نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے علاج اور قانونی رسائی کے معاملے پر بات چیت ہو چکی تھی، تاہم مذاکراتی کمیٹی کے پاس فیصلے کرنے کے لیے مکمل اختیار نہیں تھا۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین وفاق اور اس کی اکائیوں کے درمیان عمرانی معاہدہ ہے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار سے محروم کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی بحران کی بنیادی وجوہات میں آٹھ فروری کے انتخابات سے متعلق تنازعات بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے آئینی حدود کا احترام اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو قانونی حقوق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ لانگ مارچ اور احتجاج کو آئین و قانون کے خلاف کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو تصادم کے بجائے مکالمے اور سیاسی مفاہمت کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے بعد پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہوئی اور نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر اقدامات کا عزم کیا گیا تھا، تاہم خیبرپختونخوا میں بدامنی کے واقعات دوبارہ سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں لوگ جنازوں میں شرکت کرنے سے بھی خوف محسوس کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ امیر مقام نے پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان جا کر معاہدے کیے گئے، لیکن اس کے باوجود بدامنی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ان ارکان کو بھی سراہا جو دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ مشترکہ اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی نشست پر گئے اور ان سے کچھ دیر گفتگو کی۔ وزیراعظم کے ایوان سے جانے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی محمود اچکزئی سے ملاقات کی، جس کے دوران دونوں رہنما تبادلہ خیال کرتے رہے۔ اجلاس کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیٔرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان کچھ دیر گفتگو ہوئی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے معاملے پر حکومت نے اپنے اقدام کو آئینی تقاضوں اور قومی سلامتی کی ضرورت قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے اسے صوبائی خودمختاری اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ اجلاس کی کارروائی میں آئینی طریقہ کار، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور سیاسی مذاکرات کے امکانات مرکزی موضوعات رہے۔