ہنگو (مانند نیوز)ڈگری کالج مردانہ ہنگو اپنے خستہ حالی کے عروجپر پہنچ گئی۔۱۹۷۰ء کی دھائی میں تعمیر شدہ گورنمنٹ ڈگری کالج مردانہ ہنگو حکومتی لاپرواہی اور محکمانہ غفلت کے باعث ترقی کے بجائے تنزلی اور بدحالی کی لپٹ میں آگیا ہے۔عمارت میں دھراریں،پینے کا پانی ناپید جبکہ کالج بس سکریپ میں تبدیل۔ ایک سروے رپورٹ میں معلوم کیاگیاکہ گورنمنٹ ڈگری کالج مردانہ ہنگو عدم توجہ کے باعث اپنی قیام کے ۴۰ سال سے زائد عرصہ کے بعد بھی مسائل کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔گزشتہ ایک عرصے سے پینے کے پانی کا واٹر ٹینک ناکارہ،واٹر سپلائی کا نظام درہم برہم ہونے سے پانی دوردراز سے خرید کر لانے کے ساتھ ساتھ کالج کی حدود میں واقع سپورٹس گراؤنڈ بھی تباہ حال ہونے سیکھیل کود اور تفریحی سرگرمیاں متاثر ہوکر رہ گئی ہیں۔کالج کی عمارت جگہ جگہ دھراڑیں پڑنے سے کسی بھی وقت بڑے انسانی حادثیکا سبب بن سکتا ہے۔مزید یہ کہ کالج کی بس مکمل طور پر سکریپ میں تندیل ہوکر عرصہ دراز سے ناکارہ ہے۔سروے کے دوران کالج انتظامیہ کا کہنا تھا کہ مسائل کے حوالے سے کالج کے حکام بالا کو بارباراگاہ کیا گیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے تعمیر،مرمت کی مد میں 70 لاکھ روپے کی منظوری ہوچکی ہے جبکہ مزید 90 لاکھ روپے کا ترقیاتی فنڈز بھی ترقیاتی عمل کے تحت ریلیز ہوکر کالج میں ترقیاتی امور پر خرچ کیا جائیگا۔گورنمنٹ ڈگری کا انتظامیہ کے مطابق پینے کے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے متعلقہ اداروں سے کالج کے حدود میں نئے سروے کر کے کھدائی کے عمل کا آغاز کیا جائیگا۔تاہم شہری حلقوں نے ڈگری کالج مردانہ ہنگو کے مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیاہے۔