ڈیرہ اسماعیل خان (مانند نیوز)ڈیرہ اسماعیل خان جامع عید گاہ کلاں میں پارک بنانے کے معاملہ پر علمائکرام نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامع عید گاہ کلاں وقف املاک پر بنائی گئی ہے اور اس پر کسی بھی قسم کے پارک کی تعمیر نہیں ہونے دیں گے۔ نیوز کانفرنس کے موقع پر مولانا مفتی احمد شعیب‘ مفتی عبدالواحد قریشی‘مولانا عبداللہ عمر‘قاری عمیر فاروقی‘قاری اعجاز‘قاری اللہ بخش‘قاری خالد گنگوہی‘ قاری عرفان‘قاری احسان‘قاری عصمت اللہ‘مولانا عبدالحفیظ محمدی اور دیگر موجود تھے۔ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مولانا عبدالواحد قریشی نے کہا کہ جامع عید گاہ کلاں کی زمین قیام پاکستان سے قبل 1888ئمیں اہل اسلام کے نام پر پہلے ہی رجسٹرڈ ہو چکی ہے اور ہمارے پاس اس کے مکمل کاغذات موجود ہیں۔ مفتی عبدالواحد قریشی نے پولیس کے اعلیٰ افسر کی جانب سے مولانا حماد کے بیٹے مولانا عبداللہ عمر سے کی گئی زیادتی کی سخت مذمت کی اور کہا کہ مولانا عبداللہ عمر کے والد اور والدہ شہید ہوگئیں لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ وہ اکیلے ہیں۔ ہمارے تمام علمائکرام ان کی پشت پر موجود ہیں اور آئندہ ہم اس قسم کی کوئی بدتمیزی برداشت نہیں کریں گے۔ علمائکرام کا کہنا تھا کہ جامع عید گاہ کلاں کی زمین وقف کی گئی ہے اور اس پر کسی قسم کے پارک کی تعمیر قطعاً اجازت نہیں دے سکتے۔ قاری عبدالواحد قریشی نے کہا کہ ہم اس معاملے کو ذاتیات نہیں بنانا چاہتے۔ نیوز کانفرنس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ایک جانب تو ضلعی انتظامیہ عید گاہ میں پارک نہ بنانے کا موقف جاری کر رہی ہے اور دوسری جانب پارک بنانے کا ٹینڈر بھی کر دیا گیا ہے اور فنڈز بھی جاری کر دیے گئے ہیں اور ایک لولی پاپ ہے ہمیں دیا جا رہا ہے جبکہ وزیراعلیٰ کے فنڈز سے 2فیصد فنڈز اس پارک کے لیے مختص کیے گئے ہیں اور وزیراعلیٰ کا فنڈز براہ راست اس کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے پابند شہری ہیں اور پرامن ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس املاک کو اسی طرح لیا جائے جیسا کہ یہ کاغذات میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع عید گاہ کلاں کی جو جگہ ہے علمائکرام شرعی طور پر اس پر فتویٰ مرتب کر چکے ہیں اور اس کا شرعی پہلو آپ سب کے سامنے پیش کر دیا جائے گا کیونکہ وقف زمین کو وقف کرنے والا خود بھی واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی سیاسی بنیادوں پر اس پر کوئی تعمیر ممکن ہو سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے تمام افسران اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں تو پھر مکمل طور پر اس کی وضاحت کی جانی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے اس وقت میونسپل کمیٹی ہے جس کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے دستخط سے پارک کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائاسلام مکمل طور پر ہمارے ساتھ ہے اور اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اور جب ضرورت ہوگی تو جمعیت علمائاسلام کے بڑوں تک اس معاملے کو لے جایا جائے گا۔ نیوز کانفرنس کے دوران قاری اعجاز نے کہا کہ ہم قطعاً پارکس کی تعمیر کے خلاف نہیں ہیں لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے کئی دیگر علاقوں میں اوقاف کی زمین موجود ہے اس پر پارک بنائے جا سکتے ہیں۔ دین کے کام کی جگہ پر پارک بنانا کسی بھی صورت مناسب نہیں اور یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخواہ کے حساس اضلاع میں سے ایک ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ اس اہم مسئلہ کو حکومت نظر انداز کر دے۔ انہوں نے صوبائی حکومت‘ ضلعی حکومت اور مقتدار اداروں سے استدعا کی کہ اس مسئلہ کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طورپر پارک کی تعمیر کے کام کو رکوایا جائے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے