سوات (مانند نیوز)سوات میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے پشاور پولیس لائنز میں دھماکے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور اسی بم دھماکے کو پختونوں کے خلاف بڑی سازش قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا، ہماری مساجد، سکول اور بازار تک محفوظ نہیں اور پختونوں کو ہی مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے جو ہم مزید برداشت نہیں کریں گے، پشاور پولیس لائنز جیسی محفوظ جگہ پر بم دھماکہ بہت بڑا المیہ ہے، پختون ایس ایف کے جوانوں نے مینگورہ شہر میں جلوس نکالا اور سوات پریس کلب کے سامنے جمع ہوکر احتجاجی مظاہر ہ کیا، احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس ایف کے صوبائی جنرل سیکرٹری نعمان شیر، صوبائی انفارمیشن سیکرٹری موسیٰ خان اور ضلعی صدر عباس ننگیال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مزید مذمت نہیں کریں گے بلکہ ہم سڑکوں پر نکل کر اب بڑے ایوانوں اور محلات میں بیٹھے لوگوں سے استفسار کریں گے،ا نہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پختونوں پر پرائی جنگ مسلط کی گئی ہے اور صرف پختونوں کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن بدقسمتی سے پختون قوم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے صرف افسوس اور مذمت کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ اے پی ایس، باچاخان یونیورسٹی، بازاروں اور مدارس کے بعد اب ایک بار پھر مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن اب ہم مزید خاموش نہیں بیٹھیں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں جواب دیا جائے کہ کب تک پختون قوم ہی اپنی لاشوں کو اٹھائے گی اگر ہمیں جواب نہ ملا تو ہم سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق اور امن کو زبردستی حاصل کریں گے۔ سوات ( )سوات میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے پشاور پولیس لائنز میں دھماکے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور اسی بم دھماکے کو پختونوں کے خلاف بڑی سازش قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا، ہماری مساجد، سکول اور بازار تک محفوظ نہیں اور پختونوں کو ہی مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے جو ہم مزید برداشت نہیں کریں گے، پشاور پولیس لائنز جیسی محفوظ جگہ پر بم دھماکہ بہت بڑا المیہ ہے، پختون ایس ایف کے جوانوں نے مینگورہ شہر میں جلوس نکالا اور سوات پریس کلب کے سامنے جمع ہوکر احتجاجی مظاہر ہ کیا، احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس ایف کے صوبائی جنرل سیکرٹری نعمان شیر، صوبائی انفارمیشن سیکرٹری موسیٰ خان اور ضلعی صدر عباس ننگیال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مزید مذمت نہیں کریں گے بلکہ ہم سڑکوں پر نکل کر اب بڑے ایوانوں اور محلات میں بیٹھے لوگوں سے استفسار کریں گے،ا نہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پختونوں پر پرائی جنگ مسلط کی گئی ہے اور صرف پختونوں کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن بدقسمتی سے پختون قوم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے صرف افسوس اور مذمت کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ اے پی ایس، باچاخان یونیورسٹی، بازاروں اور مدارس کے بعد اب ایک بار پھر مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن اب ہم مزید خاموش نہیں بیٹھیں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں جواب دیا جائے کہ کب تک پختون قوم ہی اپنی لاشوں کو اٹھائے گی اگر ہمیں جواب نہ ملا تو ہم سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق اور امن کو زبردستی حاصل کریں گے۔