بٹ خیلہ (مانند نیوز)سنیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان ایسی پوزیشن میں ہے کہ وہ بنیگا یا ختم ہوگا، چینی، چاول، گندم، سبزیاں اور فروٹ اپنی ملک میں پید اہورہے ہیں مگر اس کی قیمتوں میں روزانہ کی حساب سے اضافہ ہوارہا ہے، اسٹیٹ بنک نے کود کہا ہے کہ ڈالر کی اتار چڑھاؤسے بنکوں نے سو ارب ڈالرز کمائیں، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے خود فیصلہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اردو میں تحریر ہوگی، مگر سپریم کورٹ کے ججز خوداپنے فیصلہ کی توہین کررہے ہیں، 2022 کے 9500 ارب روپے کی بجٹ میں تعلیم کے لیے صرف 90 ارب روپے رکھی گئی جبکہ فوج کو 1700 ارب روپے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے 14/1500 ارب روپے رکھے جاتے ہیں، جوکہ تعلیم کے ساتھ مزاق سے کم نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اکسفرڈ ایجوکیشن اکیڈمی کے سائنص اینڈ آرٹس نمائش کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سیکرٹری انفارمیشن ارشد خان اس موقع پر مہمان خصوصی تھے مشتاق احمد خان نے کہا کہ حکمران 170 ارب ڈالر کے لیے تو بیرونی ممالک کی منتیں کرتے ہیں مگر اشرافیہ کی کتوں اور بلیوں کے لیے سالانہ 8 ارب ڈالر کی گوشت اور خوراک کو بند نہیں کرتی، اشرافیہ اپنی ملک کی ادویات استعمال نہیں استعمال نہیں کرتی اس طرف توجہ نہیں ریتے، ڈھائی لاکھ سے زیادہ سرکاری گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں مگر سرکاری افسران لکھ کر دیتے ہیں کہ وہ سرکاری گاڑی استعمال نہیں کرتے اس لیے انہیں الگ پیسے بھی دئے جاتے ہیں، مجھے سینیٹ میں چھ ماہ کے لیے تین سولیٹر کا کارڈ دیا جاتا ہے میں نے اسے اس لیے واپس کردیاکہ دیگر سنیٹرز بھی اس طرح کریں گے مگر ایک بھی ایسا سامنے نہیں ایا، موجود حالات سے نکلنے کے لیے ججز، جنرلز، سول بیوکریسی اور سیاستدانوں کو اپنا پیٹ کاٹنا پڑیگا، ورنہ حالات تباہی و بربادی کی طرف جائیگی، انہوں نے کہا کہ 6912 کنال پر سرکاری افسران کی رہائش گاہیں ہیں، اسلام اباد میں 244 ایکڑ اراضی کو صرف ایک روپیہ ایکٹر کے عوض دیا گیا ہے، گلبز کلب کے لیے 72 ایکٹر مفت فراہم کی گئی، گالف فیڈریشن کے 150 ایکڑ زمین ڈھائی روپے فی یونٹ کی حساب سے دی گئی ہے، ایف بی آر میں سالانہ ایک ہزار روپے کرپشن ہورہی ہے، جس کی تدارک اوردفاعی بجٹ سمیت دیگر شاہ خرچیوں کو کم کرنا ہوگی، انہوں نے کہا کہ 73 کے آئیں کے ارٹیکل 251 کے تحت واضح لکھا گیا ہے کہ پاکستان کی عدالتی، پارلیمانی اور سرکاری زبان اردو ہوگی، صوبوں کو دسویں تک مادری زبان میں تعلیم کا حق ہوگا، مگر اس پر عمل کرنے والا کوئی نہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ مادری زبان یا رادو میں تو عام ادمی بھی بڑے کرسیوں تک پہنچ سکیں گے اس وجہ سے آئین کی اس شق کو جان بوجھ کر نظر انداز کیاجاتا ہے، جوکہ باعث افسوس ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے