شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ میں پاکستان تحریک انصاف کے بیس سے زائد رہنماؤں کے خلاف تھانہ الوچ پورن میں مقدمہ درج، ایف آئی آر میں تحصیل میرپورن عبدالمولی اور اس کے ساتھیوں پر ہوائی فائرنگ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت دیگر147,149,188,3/4دفعات شامل کردئے گئے ہے۔ 9مئی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد شانگلہ میں یہ اپنی نوعیت کایہ پہلا مقدمہ جو تھانہ الوچ پورن میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر 147,149,188,3/4کے دفعات لگائے گئے ہیں اور 20 افراد پر یہ مقدمہ درج ہیں۔مقدمہ عمران خان کی کی رہائی کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں کے جشن منانے کے دوران فائرنگ کرنا ہے۔یاد رہے کہ شانگلہ کے دیگر علاقوں میں اب تک پی ٹی آئی کے کسی بھی رہنما کے خلاف نہ تو کوئی گرفتاری ہوئی ہے اور نہ کسی کے خلاف ایسا مقدمہ درج ہوا ہے جبکہ اس حوالے سے پی ٹی آئی شانگلہ نے مختلف سوشل میڈیا پر اس دن کے تصاویر جاری کر دیئے گئے ہیں جس دن عمران خان کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس میں عبدا لمولی اس کے ساتھی بھی بشام میں شاہراہ قراقرم پر احتجاج میں موجود تھے۔تھانہ الوچ میں دائر مقدمہ علت نمبر139 ایف آ ئی ار نمبر 24میں تحصیل چیرمین پورن عبدالمولی کے علاوہ انیس الرحمن،طارق احمد،وقار، رحمان اللہ،ارشاد احمد،اشرف علی،شریف خان، یاسر ارفات،جہان زیب،ظہور، لطیف،اقبال،نثار،علی اکبر،مکرم خان، زبیح اللہ،ریاض،باسط اور بخت علی شامل ہیں۔پولیس زرایعے نے بتایا کے پی ٹی آئی کے سینکڑوں سرگرم کارکنان،رہنماوں اور عہدداران کے خلاف بھی سولہ اور تین ایم پی او کے تحت گرفتاریا ہوگی۔