بریکوٹ(مانند نیوز) موجودہ حکومت کی صوبہ خیبرپختون خوا کے ساتھ پنجاب سے صوبہ خیبر پختون خوا کو آٹے کی سپلائی بحال نہ ہوسکی۔پرمٹ پر صوبہ پنجاب سے آٹے کی سپلائی سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا۔حکومت کی تمام دعوے جھوٹ نکلے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ کئی دنوں سے پنجاب سے خیبر پختون خوا کو آٹے کی سپلائی شروع ہونے کی خبریں آرہی ہیں مگر اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے اب بھی اٹک کے مقام کے علاوہ پنجاب میں جگہ جگہ چیک پوسٹیں موجودہیں۔بریکوٹ کے ایک آٹے ڈیلر نے میڈیا کو بتایا کہ پنجاب سے اس وقت پرمٹ پر آٹے کی سپلائی جاری ہے مگر پرمٹ کا حصول بہت محنت طلب اور پرمٹ پر آٹا لانا بے عزتی کے مترادف ہے۔محکمہ سوات سے پرمٹ حاصل کرکے رحیم یار خان جو کہ لاہور اور فیصل آباد سے بھی زیادہ دور ہے پرمٹ کے ذریعے فلور مل سے ریٹ متعن کریں گے اور ریٹ متعن کرکے بعد میں ڈی سی رحیم یار خان جا کر پرمٹ دکھائیں گے اور بعد میں وہ بے عزتی کے ساتھ آپ کو چھٹی دے کر دوبارہ فلور مل آئیں گے وہاں پر نقد رقم دے کر زیادہ کرایہ پر آٹے کے تھیلے لوڈ کرکے سوات روانہ ہوجائیں گے۔اس مشکل مرحلوں سے پنجاب سے آٹے کی ترسیل سے عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں مل سکتا۔انہوں نے کہاکہ پنجاب سے خیبر پختون خوا کو آزانہ آٹے کی اجازت دی جائے تاکہ آٹے کے ڈیلر باعزت طور پر وہ جہاں بھی چاہیے آٹا خرید کر اپنے صوبے کے عوام کے لئے بہترین آٹا سپلائی کرے۔اس سے ایک طرف عوام کو سستا آٹا ملنا شروع ہوجائے گا جبکہ دوسری طرف اس کا معیار بھی بہترین ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اس وقت سرکاری آٹا 20کلو تھیلے کی قیمت 27سو سے 28روپے ہے اگر صوبہ خیبر پختونخوا کے نگران حکومت نے پنجاب حکومت سے آزادنہ آٹے کی ترسیل کی بات کی تو آٹے کی قیمتوں میں نمایا ں کمی آجائے گی اور اس کا معیار بھی بہترین ہوگا۔