پشاور(مانند نیوز ڈیسک) پاکستان ورکرز فیڈریشن وفاقی اور صوبائی حکومت سے مزدوروں کے حقوق سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کرانے کا مطالبہ کر دیا اور واضح کیا کہ اگر حکومت قوانین پر کو یقینی بنا کر عمل نہیں کرتی تو فیڈریشن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آئیگا۔اس سلسلے میں پی ڈبلیو ایف کے مرکزی چیئرمین رازم خان نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق سے متعلق لاتعداد قوانین بنے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا جس سے مزدور طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ کارخانوں، کانوں اور دیگر جائے کار پر مزدوروں کو حفاظتی آلات کی عدم فراہمی کے باعث حادثات اب معمول بن چکے ہیں جس کی روک تھام لازمی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ میں مزدوروں کے لئے ماہانہ کم از کم اجرت 32 ہزار تک بڑھا دئی ہے جو کہ خوش آئند ہے کیونکہ مہنگائی کی شرح بڑھ گئی ہے تاہم اس اجرت کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کو اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ اکثر جائے کار اور کارخانوں میں انسکپشن کا نظام کمزور ہے اورمزدوروں کو مقررہ اجرت نہیں دی جاتی مزدوروں سے مقررہ آٹھ گھنٹوں سے زائد کام لیا جاتا ہے لیکن اوور ٹائم کی رقم نہیں دی جا رہی اسی طرح کوئلہ اور ماربل سمیت دیگر معدنی کانوں میں کان کنوں اور مزدوروں کو ہیلمٹ، جوتے، دستانے اور دیگر کٹس نہیں مل رہے لیکن کان کے مالکان کیخلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ان کا کہنا تھا کہ ای او بی آئی پنشن کی رقم بھی بہت کم ہے اس کو بڑھانا چاہیے تاکہ مزدوروں کو درپیش معاشی مشکلات کم ہوں۔