پشاور(مانند نیوز) گومل یونیورسٹی کےفیکلٹی ممبران اور طلبہ کا دورہ ریڈیو پاکستان پشاور۔میڈیا اسٹڈیز اور دوسرے ڈیپارٹمنٹس کےطلباء و طالبات کا 9 مئی میں شرپسندوں کے حملے میں جلائے گئے ریڈیو اسٹیشن پشاور اور اے پی پی سی کا دورہ اور یکجہتی کا اظہار۔احتجاج اور جلاو گھیراؤ کی آڑ میں قومی اداروں کو نقصان پہنچانے کی دنیا کے کسی بھی قانون میں اجازت نہیں ہے،ڈاکٹرعمران خان تفصیلات کیمطابق خیبرپختونخوا کی مشہور گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے فیکلٹی ممبران،ماس کمیونیکیشن اینڈ میڈیا اسٹڈیز اور دوسرے ڈیپارٹمنٹس کے طلباء وطالبات کی پروسٹ ڈاکٹر سمیع اللہ خان اور شعبہ صحافت کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عمران کی سربراہی میں ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن کا دورہ کیا اور 9 مئی کے دلخراش واقعات کی شدید مذمت کی۔تفصیلات کے مطابق گومل یونیورسٹی کے وفد میں پرووسٹ یونیورسٹی ڈاکٹر سمیع اللہ خان،شعبہ کمیونیکیشن اینڈ میڈیا اسٹڈیز ڈاکٹر محمد عمران خان کے علاوہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر نافید خان،عطاء الرحمن،ساجد قیوم،شعبہ کمیونیکیشن اینڈ میڈیا اسٹڈیز کے لیکچرار ڈاکٹر میمونہ گل،مریم صدیق اور طلباء وطالبات میں نور رحمان جگنو وزیرستانی، محمد آصف،محمد جنید،یونس جاوید، احمد رافع،شمس الرحمن راحیل، حنظلہ احمد،ندیم الطاف،نائلہ علی،مریم ماہین لائبہ طارق و دیگر طلباء شامل تھے۔ گومل یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ و طالبات نے ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن کے تباہ شدہ حصوں کو دیکھ کر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن اور اے پی پی سی کے دورہ کے موقع پر ڈاکٹر عمران خان کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان ریاست کی مضبوط اور توانا آواز ہے،اس پر حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہے۔احتجاج اور جلاو گھیراؤ کی آڑ میں قومی اداروں کو نقصان پہنچانے کی دنیا کے کسی بھی قانون میں اجازت نہیں ہے۔ریڈیو پاکستان ہمارا قومی اثاثہ اور ورثہ ہے، جس کو جلانے والے شرپسند عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہے ۔ اس موقع پر پرووسٹ یونیورسٹی ڈاکٹر سمیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان کے بلڈنگ کے دورے کا بنیادی مقصد اپنے قومی اداروں کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ 9 مئی کو شرپسندوں نے ریڈیو پاکستان اور اے پی پی سی جیسے قومی اور تاریخی اداروں کو بالکل تباہ کر دیا ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز گومل یونیورسٹی ڈاکٹر نافید خان کا اس موقع کہنا تھا کہ ٹیلی ویژن اسکرینز اور سوشل میڈیا پر اس قومی اثاثہ کی حالت زار ضرور دیکھی تھی لیکن آج یہاں آکر اندازہ ہوا کہ اس کی تباہی میں شرپسندوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔شعبہ کمیونیکیشن اینڈ میڈیا اسٹڈیز کے لیکچرار ڈاکٹر میمونہ گل کا کہنا تھا کہ دراصل ریڈیو پاکستان کی آواز بند کرنا پاکستان کے آواز کو خاموش کرنے کے برابر ہے۔ کیونکہ یہ پوری دنیا میں ہمارے ملک کی ترجمانی کرتا ہے۔ جس سے ہمارے دشمن ملک خوفزدہ ہے۔اس موقع پر یونیورسٹی کے طالب علم نور رحمان جگنو وزیرستانی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث ماسڑ مائنڈ کو فوری طور پر قانون کی گرفت میں لاکر نشان عبرت بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور کو اسی طرح اپنے قومی اداروں کو تباہ کرنے کا موقع نہ مل سکے۔وفد میں موجود طلباء کا مزید کہنا تھا کہ وطن عزیز کو آج جن بیرونی و اندرونی خطرات کا سامنا ہے، پاک فوج ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے، جس کو قوم کبھی کمزور نہیں ہونے دے گی لیکن 9 مئی کو ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر طلبہ اور طالبات نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ ریڈیو پاکستان کے بلڈنگ کی جلاو گھیراؤ میں ملوث شرپسندوں اور دیگر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے والے تخریب کاروں کو کَڑی سے کَڑی سَزا دی جائے ۔