اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ وہ صحافی بھائی اور بہنیں جواپنے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں توان کے لئے میں خصوصی فنڈ کے قیام کااعلان کرتا ہوں۔ اگر کوئی صحافی اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تواس کے لواحقین کو وزیر اعظم فنڈ سے 40لاکھ روپے ادائیگی ہو گی۔مجھے 11اپریل 2022کے بعد ذمہ داری سنبھالے 16ماہ ہو گئے ہیں، آج تک کسی کالم نویس یا صحافی نے میرے خلاف سٹوری لکھی ہویا تنقید کی ہو تومیں سب صحافیوں کو گواہ بنا کرکہتاہوں کہ آج تک کبھی میں نے کسی سے گلہ نہیں کیا، یہ آپ کا فرض ہے اورذمہ داری ہے آپ اسے اداکریں، ہمیں اس سے زیادہ اورکوئی خوشی نہیں ہوسکتی، ماسوائے اس کے کہ تنقید اگر حقائق پر مبنی ہو تواس سے بہت مدد ملتی ہے اوروہ اسپیشل برانچ کی رپورٹ سے بھی زیادہ مفید ہوتی ہے اوراگروہ حقائق سے ہٹ کر ہوتو پھر اس سے بگاڑ پیداہوتا ہے۔ ان خیالات کااظہار وزیراعظم شہبازشریف نے صحافیوں، میڈیا ورکرز، فنکاروں اورٹیکنیکل ریسورس کے لئے ہیلتھ کارڈ کے اجراء اورپاکستان کوڈ، ڈیجیٹل ریپازٹری آف فیڈرل لائ، موبائل ایپ اورویب سائٹ کے اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف سینیٹر چوہدی اعظم نذیر تارڑ، رکن قومی اسمبلی مہناز اکبر عزیز، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے معیشت وتوانائی بلال اظہر کیانی اوروفاقی سیکرٹری برائے اطلاعات ونشریات سہیل علی خان بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا تھا ورکنگ جرنلسٹس اپنے فرض کی ادائیگی میں بڑے بڑے کٹھن اور مشکل چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں، کئی جگہ بہت خطرات پیش آتے ہیں، بیماری بھی زندگی کاحصہ ہے، آج ہیلتھ کارڈکے پروگرام کااجراء کیا گیا ہے میں سب کو اس کی دل کی گہرائیوںسے مبارکباددیتا ہوں۔مریم اورنگزیب اوران کی پوری ٹیم کو اس پروگرام کے آغاز پر مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے بڑی نیکی کا کام کیاہے اور بڑی ذمہ داری ادا کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ صحافت کے میدان میں آج انقلابی قدم ہے۔ میں آج اپنے بھائی نوازرضا کو ملا، یہ ہمارے بھائی اورساتھی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو شفا عطافرمائے اور لمبی عمر عطافرمائے، میں ان سے جلد ملاقات کروں گااور پھر ہم پرانی یادیں تازہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تمام قوانین کا پورٹل بنایا ہے اوران کو ڈیجیٹائز کیا ہے اس کو پوری پاکستانی قوم اور پوری دنیا اس تک رسائی حاصل کرسکتی ہے، تمام قوانین اورتمام آئینی دفعات کا مطالعہ کرسکتی ہے اوران سے مدد حاصل کرسکتی ہے۔ میں اعظم نذیر تاڑ اور ان کی ٹیم کو اس زبردست کام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں نے مریم اورنگزیب سے مشاورت کے ساتھ فیصلہ کیا ہے اوراس فیصلے کا میں انکساری کے ساتھ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ وہ صحافی بھائی اور بہنیں جواپنے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں توان کے لئے میں خصوصی فنڈ کے قیام کااعلان کرتا ہوں۔ اگر کوئی صحافی اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تواس کے لواحقین کو وزیر اعظم فنڈ سے 40لاکھ روپے ادائیگی ہو گی۔ آج کے حالات کے اعتبار سے یہ رقم یقیناً ناکافی ہے لیکن یہ شروعات ہیں اور جب اللہ تعالیٰ پاکستان کو مزید وسائل سے نوازیں گے تواس میں یقیناً اضافہ ہو گا۔ جب میں پنجاب میں بطور خادم کاکرتا تھا توپنجاب پولیس کا کوئی سپاہی یا افسراپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کرتا تھا تو اس کو شروع میں 30لاکھ،پھر40لاکھ اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ ہم نے اس رقم کو پانچ کروڑ کردیا۔ مجھے امید ہے کہ وقت آئے گا جب اللہ تعالیٰ ہمیں وسائل عطافرمائیں گے اور پاکستان خوشحال ہو گاتواس میں مزید اضافہ ہو گا۔