چترال(مانند نیوز) وادی بیستی اگر ایک طرف ایک خوبصورت علاقہ ہے تو دوسری جانب نے قدرت نے ان پہاڑوں میں زمرد جیسے قیمتی پتھروں کا خزانہ بھی چھپایا ہوا ہے جہاں سے اربوں روپے کا قیمتی پتھر نکلتی ہے مگر اس کے باوجود یہ لوگ غریب ہیں۔ علاقے کے لوگوں نے اپنے جایز حق کیلیے اختجاجی جلسہ کرتے ہویے دھرنا دیا اور حکام سے اپنے جایز حق دلوانے کا مطالبہ کیا.تفصیلات کےمطابق چترال کا علاقہ بیستی اگر ایک طرف قدرتی حسن کی وجہ سے نہایت خوبصورت ہے تو دوسری جانب ان پہاڑوں میں قدرت کا بیش بہا قیمتی پتھروں کا قدرتی خزانہ بھی موجود ہے، مگر اربوں روپے کے زمرد کی پتھر اس پہاڑ سے نکالنے کے باوجود یہاں کے لوگ اب بھی نہایت غریب ہیں۔بیستی کے لوگوں نے غیر مقامی لیز ہولڈر کے نا انصافی کے حلاف اختجاجی جلسہ کرتے ہویے سڑک پر دھرنا دیتے ہویے اسے ہر قسم ٹریفک کیلیے بلاک کیا۔اختجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہویے مقررین نے کہا کہ ایک غیر مقامی لیز ہولڈرنے ان کے علاقے بیستی کے پہاڑوں میں کسی ارزاں معدنیات کے نام پر لیز لیا ہوا ہے مگر یہاں سے زمرد کا قیمتی پتھر نکلتا ہے اور ابھی تک سو ارب روپے کا زمرد وہ نکال چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیز ہولڈر نے شروع میں ان کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا تھاکہ وہ ان کو رایلٹی اور سروس چارجز دینے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی سڑکوں اور پلوں کی بھی مرمت کریں گے جو ان کی مال بردار گاڑیوں کی وجہ سے حراب ہویے ہیں۔مگر ابھی وہ اپنی بات سے مکر گییے۔مقررین نے کہا کہ لیز ہولڈر مقامی جوانوں کو مزدوری پر بھی نہیں لگاتے اور غیر مقامی مزدوروں کے انے سے ہماری چادر اور چاردیواری بھی متاثر ہورہی ہے کیونکہ اکثر ہماری خواتین مال مویشیوں کو کھیتوں میں لے جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیز ہولڈر ان پہاڑوں میں بارود سے بلاسٹنگ کرواتا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے سے جنگلی حیات نے بھی افغانستان کی طرف ہجرت کی اور ہمارے علاقے میں سینکڑوں سالوں سے موجود گلیشیر یعنی برفانی تودے بھِی تیزی سے پگھل رہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی پر نہایت منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ مقررین نے الزام لگایا کہ ٹھیکدار نے عام اور سستی معدنیات کے نام پر لیز لیا ہوا ہے مگر یہاں سے زمرد اور دیگر قیمتی پتھر نکل رہے ہیں۔ انہوں نے حدشہ ظاہر کیا کہ لیز ہولڈر کا چند افسران اور ادارے کے لوگوں سے ملی بگھت سے شاید قومی خزانے کو بھِی نقصان پہنچ رہا ہے۔مقررین نے اس بابت انکوایری کا بھی مطالبہ کیاکہ اس بابت تحقیقات کی جایے کہ ایا ان اربوں روپے زمرد لے جانے کے عوض وہ حکومت کے اس کے عوض اتنا ٹیکس بھِی دیتے ہیں یا پھر چوری چھپے لے جاتا ہے۔مقامی لوگوں نے اس موقع پر میڈیا سے بھی بات چیت کرلی.مقررین نے کہا کہ جب ہم اپنے جایز حق کیلیے مطالبہ کرتے ہیں تو لیز ہولڈر ہمیں دھمکیاں دیتا ہے اور برملا کہتا ہے کہ ان کے بڑے لمبے ہاتھ ہیں اور کوی بھی ادارہ ان کے حلاف کاروای نہیں کرسکتا۔متاثرہ لوگوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ ، چیف جسٹس پشاور ہای کورٹ ، صوبای وزیر اعلےِ ، محکمہ معدنیات کے ارباب احتیار اور مقتدر اداروں سے اپیل کی کہ اس سلسلے میں تخقیقات کیا جایے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجایے اور ان متاثرہ لوگوں کو ان کا جایز حق دیا جایے کیونکہ زمرد کے کان والے پہاڑ میں دھماکے کرنے سے یہاں کا پانی بھِی زہر الود ہوچکا ہے کیونکہ زیادہ تر پانی ان پہاڑوں کے بیچ میں نکلنے والے چشموں سے اتی ہے جہاں یہ لوگ بارود استعمال کرتے ہیں اور اس زہر الودہ پانی استعمال کرنے سے ان کی صحت اور زندگی کو بھِی شدید حطرہ لاحق ہے۔علاقے کے عمایدین نے کہا کہ ماضی میں یہاں ای بکس، مارخور،تیتر، قومی پرندہ چکور اور دیگر جنگلی حیات بڑے پیمانے پر موجود تھے اور غیر ملکی شکاری ہنٹنگ ٹرافی کے تحت ای بکس کا شکار کرکے ہمیں کروڑوں روپے کا امدنی ہوتی تھی مگر جب ان پہاڑوں میں بلاسٹنگ یعنی دھماکے کروانا شروع ہویے ہیں تو اس کی ڈر سے جنگلی حیات بھی یہاں سے غایب ہوچکی ہے اور ان لوگوں کو شکار کی مد میں جو معاوضہ ملتا تھا وہ بھی حتم ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹھیکدار کے لوگ نہایت غیر تیکنیکی اور ساینسی طریقے سے ان زمرد کو بلاسٹنگ کرکے نکال رہے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر یہ قیمتی پتھر زمین میں دب کر ضایع ہوجاتا ہے۔ علاقے کے عمایدین نے کہا کہ یہ مروجہ قانون ہے کہ جس علاقے میں معدنیات، جنگلات، پانی، جنگلی حیات یا دیگر کسی قسم کے بھی ذحایر اور وسایل موجود ہو مقامی لوگوں کو ضرور ان سے فایدہ پنچایا جارہا ہے مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہے لیز ہولڈر ہمیں نقصان دیکر ہماری تاوان کی ادایگی کیلیے بھِی تیار نہیں ہے۔ انہوں نےمطالبہ کیا کہ ان کو لیز ہولڈر کے غنڈہ گردی سے نجات دلایا جایے اور ان کو ان کا جایز حق دیا جایے ورنہ اپنے حق چھیننے کیلیے وہ راست قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر ہوگی۔ یہ اختجاجی جلسہ ڈی ایس پی تمیز الدین کے تحریری ضمانت دینے کے بعد حتم کیا گیا جس میں انہوں نے یقین دہانی کرای کہ وہ لیز ہولڈر کو بلاکر ان لوگوں کو ان کا حق دلوایے گا۔