وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر وانا زلی خیل قومی جرگے نے صحافی میراج خالد وزیر کو خاندان سمیت علاقہ بدر کردیا، ضلعی انتظامیہ اور ریاستی ادارے تماشہ دیکھتی رہی، صحافی معراج خالد وزیر کے والد شیر علی مجبور ہوکر وانا وزیرستان کو خیرباد کہہ دیا۔ اور اسلام آباد کے علاقہ ترنول میں رہائش پذیر ہوئی، وانا صحافیوں کا کہنا ہے کہ حکومت قبائلی صحافیوں کی جان و مال کی تحفظ یقینی بنائیں، قبائلی صحافیوں کو جنگ زدہ قبائلی خطے میں پہلے بھی کافی جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے مزید کسی قسم کی نقصان کے لئے تیار نہیں، قبائلی صحافی معراج خالد وزیر اور اس کے خاندان و املاک کو تحفظ دینا ریاست و متعلقہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے. لیکن بدقسمتی سے ضلعی انتظامیہ اور جنوبی وزیرستان پولیس نوجوان قبائلی صحافی، انکے خاندان اور املاک کو تحفط فراہم کرنے میں بیبس ہے۔ صحافیوں پر قومی جرمانے اور اس غیر قانونی فعل کی بھرپور مذمت کی جائے گی۔ واضح رہے کہ صحافی معراج خالد وزیر کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر جرمانہ کیا گیا تھا، جس میں لکھا گیا تھا کہ ایک ریاست میں دوسری ریاست ظلم و بربریت ہے۔ اس پر زلی خیل قوم نے پانچ لاکھ روپیے جرمانہ عائد کیا گیا تھا، صحافی معراج خالد وزیر کی خاندان جرمانہ دینے سے صاف انکار کیا، جس پر قوم زلی خیل نے ان کا گھر سیل کردیا، صحافی معراج خالد وزیر کا کہنا ہے کہمیرے گھر والے خیر و عافیت سے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ صرف ایک پوسٹ کیوجہ سے زلی خیل قوم کے مشران نے میرے گھر والوں کو یہ سزا دی، کہ وہ علاقہ بدر کردیا، ان کا دعویٰ ہے کہ وہاں اب بھی جنگل کا قانون ہے ہم برائے نام مرج ہوچکے ہیں. اب وہی کچھ ہو رہا ہے جو ایف سی آر میں ہوتا جارہا تھا۔