ایبٹ آباد (مانند نیوز)وزارت انسانی حقوق پاکستان کے تحت ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ہیومن رائٹس کی کمیٹیوں کو متحرک کرنے اور قوانین کی آگاہی کے لئے ایبٹ آباد میں ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔سنگی ویلفیئر فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے آگاہی ورکشاپ میں ایڈیشنل سیکرٹری لاء وانسانی حقوق ظہیر الدین بابر مہمان خصوصی تھے۔جب کہ اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر وزارت انسانی حقوق خیبر پختونخوا زاہد ریحان،ذوالفقار علی جھمٹ پراجیکٹ ڈائریکٹر ایکشن پلان،ایڈووکیٹ احسن نواز ڈپٹی ڈائریکٹر ایکشن پلان وزارت انسانی حقوق پاکستان،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف وانسانی حقوق ایبٹ آباد رابعہ سجاد،سوشل ویلفیئر آفیسر ساحرہ مشتاق کے علاوہ سنگی کے ریجنل ڈائریکٹر شاہد عزیز،ضلعی انسانی حقوق کمیٹی کے اراکین،وکلاء،منیارٹی اور خصوصی افراد کے نمائندوں کے علاوہ خواتین بھی شریک تھیں۔ ورکشاپ میں بنیادی انسانی حقوق کے قومی اور بین الاقوامی قوانین سے آگاہی دی گئی۔اور اقوام متحدہ کی جانب سے لاگو کئے گئے 9 کنونشن میں سے 7 پر عملی اقدامات کے حوالہ سے تفصیلی وضاحت کی گئی۔جس میں شکایت کے اندراج کے لئے 1099 ہیلپ لائن،فیملی پروٹیکشن بحالی سنٹر،زینب الرٹ،چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹوٹ،لیگل ایڈ اینڈ جسٹس سمیت دیگر قوانین پر بحث کی گئی۔وزارت انسانی حقوق کے زمہ داران نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور متاثرہ افراد کو ریلیف فنڈ کی فراہمی کے حوالہ سے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔مہمان خصوصی ایڈیشنل سیکرٹری لاء پارلیمنٹری افیئر و ہیومن رائٹس خیبر پختونخوا ظہیر الدین بابر کا کہناتھا صوبائی ٹاسک فورس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر 2 ہزار تین سو 96 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 88 فیصد شکایات کا ازالہ کیا گیا ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ ضلعی سطح پر قائم کمیٹیوں میں ڈسٹرکٹ اٹارنی کو بھی شامل کرنے کا عندیہ دیا اور شرکاء کی جانب سے تحصیل کی سطح پر ہیومن رائٹس کمیٹیوں کے قیام کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے سنگی ویلفیئر فاؤنڈیشن کو بھی خراج تحسین پیش کیا جن کے تعاون سے بہترین ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں اور شرکاء نے آگاہی سیشن ہو مفید قرار دیتے ہوئے ایسی مذید ورکشاپ کے انعقاد پر زوردیا ہے۔