شانگلہ(مانند نیوز) نئی حلقہ بندی شانگلہ کو ایک نئی صوبائی اسمبلی نشست مل گئی، سرکاری دستاویزات کے مطابق شانگلہ کے پہلے صوبائی حلقے پی کے 28 شانگلہ1 تحصیل الپوری و تحصیل کانا کے تین یونین کونسل شاہپور،دا موڑی اور پیر خانہ پر مشتمل ہوگا۔ اسی طرح دوسرا صوبائی حلقہ پی کے 29 شانگلہ ٹو تحصیل بشام اور تحصیل کانا کے دو یونین کونسلوں کوز کانا اور رانیال پر مشتمل ہوگا جبکہ اس کے ساتھ تحصیل چکیسر اس حلقے کا حصہ ہوگا۔ شانگلہ کے تیسرے صوبائی حلقہ پی کے 30شانگلہ تھری تحصیل پورن، تحصیل مارنگ اور مخوزو پر شامل ہوگا۔نئے حلقہ بندی پر تحصیل کانا کے مختلف سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے یونین کونسل رانیال اور یونین کونسل کوز گانا کو بشام کے حلقے میں ضم کرنے پر شدید تحفظات رکھے ہیں اور ان کو مسترد کردیا ہیں۔پیپلز پارٹی کے صوبائی نائب صدر ڈاکٹر افسر الملک اور عوامی نیشنل پارٹی کے سابق امیدوار متوکل خان ایڈوکیٹ نے باقاعدہ طور پر اپنے بیانات میں ان یونین کونسلوں کو تیسرے حلقے میں شامل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جغرافیاں کے لحاظ سے غلط ہیں،تحصیل کانا سے تعلق رکھنے والے ان سیاسی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ یونین کونسل رانیال اور کوزکانا کو بشام تحصیل نئے حلقے میں شامل کرنا بدنیتی ہیں انہوں نے واضح کیا ہے کہ نئے حلقہ بندیوں میں کونسلوں کو اپنی پرانی حیثیت میں بحال رکھنا چاہیے تھا۔ یونین کونسل کوزکانا اور رانیال کی سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی انہیں تیسرے حلقے میں شامل کرنے پر شدید تحفظات ہیں۔ پہلا صوبائی حلقہ پی کے 28 شانگلہ ون پر تحریک انصاف کے اس حلقے سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شوکت یوسف زئی، مسلم لیگ کے صدر انجینئر امیر مقام کانٹے دار مقابلہ متوقع ہیں۔ اس حلقے سے شانگلہ کے موجودہ کئی اہم سیاسی رہنما بھی صوبائی اسمبلی سے اتریں گے۔ جس میں عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور جماعت علماء اسلام کے امیدواران شامل ہوں گے۔ شانگلہ میں دن بدن موسم سرد ہوتا جا رہا ہے جبکہ سیاسی موسم روزانہ اور ہفتہ وار گرمی کی طرف جا رہا ہے اس وقت تحریک انصاف شانگلہ میں اپنی انتہائی خاموش سے اکثریت میں نظر آرہی ہے جبکہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی بھی دڑادڑ شمولیتیں کر رہے ہیں۔۔