شانگلہ(مانند نیوز) شوکت یوسفزئی کی گرفتاری کا حکم کالعدم قرار۔پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ نے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی کا تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے شانگلہ پولیس اور انتظامیہ کو ان کی گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کردیا سابق صوبائی وزیر بدھ کو عبوری ضمانت کی کنفرمیشن کیلئے سوات دارالقضا (ہائی کورٹ) میں پیش ہوئے اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت دی تھی اور کیس کنفرمیشن کے لیے سوات دارالقضا بھیج دیا تھا اس سلسلے میں 19 ستمبر کو سوات ہائی کورٹ بینچ میں پیشی کی مگر عدالت نے چار اکتوبر تک ضمانت میں پھر توسیع کردی تھی۔ شانگلہ سے سابق رکن صوبائی اسمبلی تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شوکت یوسف زئی کی عبوری ضمانت میں پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ کا فیصلہ جاری، شوکت یوسف زئی کو تین ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم نامہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ نو مئی کے واقعات میں شوکت یوسفزئی سمیت پی ٹی ائی کے کئی اہم رہنماؤں کے خلاف تھری ایم پی او کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد ایک درجن سے زائد رہنماؤں اور کارکنان کو شانگلہ سے گرفتار کر دیا گیا تھا تاہم شوکت یوسفزئی اور ان کے دیگر ساتھیوں نے پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ سے بی بی اے کرایا تھا جس پر بدھ کے روز عدالت نے حکم جاری کر دیا ہے کہ گرفتار نہیں کی جائے۔۔