وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر وانا کا اہم ترین ہسپتال شیخہ فاطمہ بنت مبارک نے اپنی تمام سورسز بند کرکے عملہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی بناء پر احتجاج پر چلا گیا،شیخہ فاطمہ بنت مبارک ہسپتال شولام جو کہ ٹی سی پی کے تعاون سے چل رہاتھا،جن کے 66 کے قریب ملازمین تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے احتجاجی مظاہرے شروع کردیا ہے،اور ہسپتال کے تمام سروسز کو بند کردیا ہیں،مظاہرین میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اسٹاف، نرسز اور کلاس فور ملازمین شامل ہیں،ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اکرام اللہ خان کا کہنا ہے کہ پچھلے 8 مہینوں سے ہسپتال میں ڈیوٹی انجام دینے والے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اسٹاف، نرسز اور دیگر ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں،جس کی وجہ سے وہ احتجاج پر چلے گئے ہیں، اور ہسپتال کی تمام سروسز معطل کردی گئی ہیں،دوسری جانب ڈی جی ہیلتھ خیبر پختونخوا کے آفس بیرر نے بتایا، کہ فنڈز ریلیز کرانے کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ اور پی این ڈی ڈیپارٹمنٹ کو 21 ستمبر کو ڈیمانڈ لیٹر بھیج دی گئی ہے، لیکن تاحال اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی ہے۔اس حوالے سے ڈی جی ہیلتھ سروسز کے پی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ کال اٹینڈ نہیں کرتے۔واضح رہے کہ سابقہ حکومت خیبر پختونخوا پی ٹی آئی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ٹرینز کانٹینٹل پارمہ (TCP) کو دینے والا یہ ہسپتال لوکل مریضوں کو صحت کی سروسز فراہم کرنے والا اہم ہسپتال تھا،جو کہ ابھی تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ہسپتال کا پورا عملہ احتجاج پر چلا گیا ہے، اور تمام سروسز بند کردی گئی ہیں، جس کی وجہ سے سیکڑوں مریض صحت کے حوالے سے محرومیوں کا شکار ہوگئے ہیں،اور مریضوں کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔