شیرگڑھ(مانند نیوز) 31دسمبر تک اگرہمارے بجلی کے مسائل حل نہیں ہویتوملاکنڈ کی تینوں بجلی گھروں کی شیرگڑھ سے گزرنی والی بجلی سپلائی لائن کھاٹ دیں گے علاقہ بائیزی کیعوام احتجاجی طورپرہزاروں لاکھوں بجلی میٹربھی اکھاڑ کرواپڈا کوواپس کر دیں گیکیونکہ موجودہ ٹیرف پر بجلی کی بل جمع کرنا اب عام آدمی کی استطاعت کی بات نہیں رہی۔فضل ربانی ایڈوکیٹ سابقہ صوبائی وزیر و صدر ایکشن کمیٹی پی کے 58 ملک کی دیگر حصوں کی طرح سب ڈویژن تخت بھائی میں بجلی کی بڑھتی قیمتوں اوربلنگ،اورناراو لوڈشیڈنگ کیلئے بنائی گئی قومی ایکشن کمیٹی بنائی گئی تھی جسکی سربراہی سابق صوبائی وزیر اورممتازقانون دان فضل ربانی ایڈوکیٹ کررہے تھے کمیٹی میں علاقائی سطح پر ہر سیاسی پارٹی کے نمائندے موجود تھے جنہوں نیگزشتہ ماہ باقاعدہ طور پرنہ صرف احتجاجی مظاہرہ کیاتھا بلکہ احتجاجا بجلی کے بل بھی جمع نہیں کیں تھیں۔اگرچہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ایسی ایکشن کمیٹی اس مسلے پر سردرمہری کی شکاررہی لیکن گزشتہ روز اسی سلسلے میں شیرگڑھ میں قومی ایکشن کمیٹی کا اجلاس زیرصدارت حاجی ارشاد عزیز منعقد ہوا جہاں جمال ناصر خان،عثمان شاہ مہمند،سرداربہادر،ناظم یونین کونسل شیرگڑھ خالد شاہ،شاہ خالد،نثارخان،ہدایت اللہ اور دیگرمختلف مکتب فکر کے لوگوں نے بھرپور شرکت کی اور آئندہ لائحہ عمل کیلیے تجاویز پیش کیں۔شرکاء نیمشترکہ اعلامیہ میں اپنی آئندہ کا لائحہ عمل بیان کرتے ہوے کہاکہ پہلی فرصت میں آئندہ پیر کے روزسے ضلعی سطح کی تمام سرکاری ذمہ داروں سے میٹنگز ہونگے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور علاقہ میں بجلی چوری اور ریکوری کے نام سے جاری ناجائز آپریشن پراپنی تحفظات سے انہیں آگاہ کریں گے۔اگر حکومت نے ہمارے جائز مطالبات ماننے سے انکار کیاتوہم 31 دسمبر 2023کو مالاکنڈ کے تینوں فعال بجلی گھروں کی شیرگڑھ سے گزرنے مین لائن کھاٹ دیں اور اسکے علاوہ علاقے کے عوام ہزاروں کے حساب سے بجلی میٹر اتار کر سرکاری بجلی کا بائیکاٹ کرلیں گے۔صحافیوں سے سابقه وزير خوراک فضل ربانی ایڈوکیٹ کا کہنا تھاکہ عوام 50 روپے فی یونٹ کے حساب سے مزید بجلی استعمال نہیں کر سکتی اس سے بہتر ہے کہ محکمہ واپڈا سے بائیکاٹ کیا جاے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے کو اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی صوبے کی جائزحقوق نہیں مل رہے کہ ایک سے دو روپے تک کی لاگت سے بنی والی ہائیڈ روپن بجلی 50 یااس ذیادہ قیمت اصول کرنا کہاں کا انصاف ہے انہوں نے کہاکہ اگرہمارے گھراندھیرا چاگیاتوکسی اور کے گھر کے روشنی بجھانا بھی ہمیں اتاہے بہتریہ کہ حالات اس نہج تک نہ پہنچے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انکا کہنا تھاکہ جنہوں نے ائی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تو انہوں نے اپنی عیاشیوں کیلیے کیے ہیں یہ کہاں کہ انصاف ہے اب غریب طبقہ انکی عیاشیوں کا بل بھردے۔اگر بات یہاں نہیں بنتی تو ہم ایمنسٹی انٹرنیشنل میں جاسکتے ہیں کیونکہ بات انسانوں کی بنیادی حقوق کا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے