ایبٹ آباد(مانند نیوز) چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی ہزارہ ڈویژن میں آمدکی بازگشت، بڑے سیاسی حلقوں میں ہلچل، ایبٹ آباد ہزارہ کو چراہ گاہ سمجھنے والے سیاست دان بھی اپنی سیاست کو بچانے کے لئے کوئی نئی حکمت عملی اپنانے پر غور کرنے لگے، عوامی حلقوں میں زیر لب یہ گردش ہے کہ بلاول بھٹو جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں جن کی وجہ سے آج ہزاروں خواتین اور خاندانوں کی پرورش کا ذریعہ بے نظیر انکم سپورٹ کی وہ معقول رقم ہے جو انہیں با عزت اپنی زندگی گذارنے کا حوصلہ دے رہی ہے وگرنہ مہنگائی کے اس عالم میں یتیم اور بیواؤں کا جو حال ہوتا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، ماضی میں بے نظیر انکم سپورٹ کو دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے مفادات کے لئے استعمال تو کیا لیکن مستحق تک اس کا حق نہ پہنچایا گیا، رہنما پیپلز پارٹی سید سلیم شاہ نے ایبٹ آباد اور اس کے گرد نواح کے علاقوں کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ کا سروے کروانے کا سلسلہ بحال کروایا تو اپنے عملہ کو خواتین کی معاونت کے لئے متعین کیا جس کے بعد سے ہزاروں مستحق خواتین اور خاندانوں کو مالی امداد مل رہی ہے جبکہ دیگر کو مستفید کرنے کے لئے بھی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، بے نظیر سپورٹ پروگرام کے درست استعمال سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ہزارہ بھر میں مقبولیت میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تو دوسری جانب بلاول بھٹو کی ایبٹ آباد آمدجو کہ پی پی قیادت کی ایک طویل عرصہ بعد ہزارہ میں حاضری ہے سے سیاسی صفوں میں نئی ہلچل مچ رہی ہے، کئی ایک سیاسی خانوادے اور سیاسی عمائدین سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ بن کر ملک میں حقیقی ترقی اور جمہوریت کے لئے چیئر مین بلاول بھٹو کا ساتھ دیں تو دوسری جانب موقع پر ستوں اور ابن الوقت قسم کے سیاسی نمائندوں کی راہ بھی مسدود ہوتی نظر آ رہی ہے، کل کو پیپلز پارٹی کو ایبٹ آباد میں قصہ پارینہ سمجھنے والے آج پیپلز پارٹی کو ہزارہ میں ایک ابھرتی ہوئی مستحکم قوت کے طور پر گردان رہے ہیں، سیاسی پنڈت بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اول سید سلیم شاہ کی پیپلز پارٹی کی صفوں میں آمد اور انتہائی متحرک کردار سے مخالف سیاسی قیادت پریشان تھی تو سید سلیم شاہ کی ہی کوششوں سے بلاول بھٹو کا ایبٹ آباد آنا اس بات کی نوید ہے کہ پیپلز پارٹی ہزارہ میں ایک بار پھر سے مضبوط و منظم قوت کے طور پر سامنے آئے گی اور آمدہ انتخابات میں مخالفین کو ٹف ٹائم دے گی۔