وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر پی کے 110 سے آزاد امیدوار تاج محمد وزیر نے کہا ہے کہ ہم قومیت پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ اجتماعی سوچ و فکر کی بنیاد پر انتخابات لڑ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ قومیت کا نعرہ وہ امیدواران لگا رہے ہیں جن کا کوئی قومی اور علاقائی خدمات ہوں اور نہ ہی اجتماعی سوچ کے حامل ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں اپنی جانب سے تمام وزیر قبیلوں کی یکساں خدمات کی ہیں۔ اور مزید خدمات کیلئے تیار ہوں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مشن عوام کی فلاح و بہبود اور انکو مثبت سرگرمیوں میں انگیج کرکے بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف الیکشن مہم شروع ہے اور دوسری طرف جنوبی وزیرستان لوئر بمقام آنگورآڈا گیٹ پر علاقے میں سخت برف باری کے باوجود اختجاجی دھرنا جاری ہے، انگورآڈا اختجاجی دھرنا دو مہینے میں داخل ہوئے، لیکن بدقسمتی سے ضلعی انتظامیہ و عسکری قیادت کی نظروں سے اوجھل ہے، انگورآڈا کے عوام اپنے جائز حقوق کیلئے دھرنا دیا ہوا ہے، لیکن بدقسمتی سے حکومت اس کی جائز مطالبات ماننے کیلئے تیار نہیں، اگر دیکھا جائے ایک طرف برف باری شروع ہو گئی اور دوسری طرف عوام اپنے جائز حقوق مانگ رہے ہیں۔ لیکن ہم ایسی ملک میں جی رہی ہے کہ یہاں قانون اور آئین کی دجیا آڑائی جا رہی ہے، جنوبی وزیرستان لوئر تحصیل برمل کے علاقہ انگورآڈا کئی دہائیوں سے زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، انگورآڈا میں خدمت کے جذبے سے سرشار لوگ سخت موسمی حالات کے باوجود قوم کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے کوشاں ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ بھی پاکستانی شہری ہے اور باقی شہریوں کی طرح حق رکھتے ہیں، ان کی جائز مطالبات فی الفور حل کیا جائے۔ اس کے علاؤہ تحصیل توئی خلہ میں اختجاجی دھرنا جاری ہے وہ اپنوں سے رابطے میں رکھنے کیلئے موبائل سیگنل اور انٹرنیٹ سروس مانگ رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے حکومت دینے کیلئے تیار نہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دو جگہوں پر اختجاجی دھرنے میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے مذاکرات کریں۔ اور ان کی جائز مطالبات مان لیں۔