پبی (مانند نیوز) اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ 89 میاں افتخار حسین نے کہا. کہ ہماری سیاست ایک خاص نظریے کے بنیاد پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج دیگر سیاسی پارٹیوں کے کارکنان اپنی جماعتوں سے نالاں ہوکر اے این پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں میں عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہونے والوں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے فیصلے پر نادم نہیں ہونگے اور اپنے علاقے کے ترقیاتی کاموں میں بھرپور حصہ لینگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاضل کورونہ, ترخہ, اکبر پورہ, آمانکوٹ اور بانڈہ نبی میں شمولیتی جلسے اور کارنرز میٹنگ کی سے خطاب کر تے ہو ئے کیا. جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے مستفعی ہوکر اے این پی میں شمولیت اختیار کی. اس موقع پر این اے 34 کے امیدوار میاں بابر شاہ کا کا خیل, تحصیل چیئر مین غیور خٹک,تحصیل صدر حاجی زر علی خان اور عباس خان غازی موجود تھے انہوں نے کہا کہ آجکل سیاسی میدان لگا ہوا ہے اور ہر ایک سیاسی دوکانداری چمکانے میں لگا ہوا ہے کوئی دعوی کر رہا ہے کہ میں آنے والا وزیر اعلی ہوں کوئی تبدیلی کے نام پر ایک بار پھر عوام کو بیوقوف بنانے میں لگا ہوا ہے اور کوئی پیسے کے بل بوتے پر کارنر میٹنگ کرانے کی کوشش کر رہا یے مگر اللہ کے فضل و کرم سے اور باچہ خان بابا کے خدائی خدمتگاروں کی اولادوں کے تعاون سے آج پی کے 89 کے سیاسی میدان میں صرف اے این پی نظر آ رہی ہے اس کی بنیادی وجہ اپنے نظریے سے وابستگی اور اپنے پارٹی سے وفاداری ہے میں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جس پارٹی سے کیا آج تک اس پر قائم و دائم ہوں اور رہتی زندگی تک قائم رہوں گا. میری سیاسی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے حتکہ میرے اکلوتے بیٹے کو شہید کرکے میرے ارادوں کو پست کرنے کی ناکام کوششیں ہوئی, قید و بند کی صوبتیں برداشت کی مگر اللہ کے فضل و کرم سے اور آپ سب دعاوں سے میں باچہ خان کے نظریے کے ساتھ ثابت قدمی سے جوڑا رہا لیکن میرے مدمقابل امیدواروں کا نا کوئی نظریہ ہے اور نا سیاسی وفاداری ان کا جینا مرنا عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنے مال و دولت میں اضافہ کرنے تک محدود ہے میرے مدمقابل ایک دو امیدواروں نے دو دو اور تین تین پارٹیاں تبدیل کی ہے مگر ایک نے ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہوا ہے کہ 35 سالوں میں پانچ سے زیادہ پارٹیاں نا صرف تبدیل کی اور اب تو اپنے آپ کو مستقبل کا وزیر اعلی کے طور پر متعارف کرانے میں لگا ہوا ہے. حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ کو ساتھ ملا کر کبھی پٹواریوں کو پریشرائزز کرتا ہے اور کبھی اساتذہ کو مجبور کرکے ان کے ذریعے کارنر میٹنگوں کی ناکام کوششیں کر رہا ہے مگر ضلع نوشہرہ کے باضمیر عوام اب ان ہتھکنڈوں میں نہیں آئینگے. کیونکہ 35 سالوں سے مختلف پارٹیوں کے دور حکومت میں وزارت اور وزارت اعلی کے مزے لوٹنے کے باوجود ضلع نوشہرہ میں کوئی بڑا ترقیاتی پراجیکٹ نہیں کیا البتہ کرپشن کے پراجیکٹ بہت کیے. جبکہ میں نے اپنے پانچ سالہ دور وزارت میں تحصیل پبی میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے جس میں پبی کو تحصیل کا درجہ دلانا, عبدالولی خان یونیورسٹی کیمپس پبی, اکبرپورہ کالج, کئی ہائر سکولز,ہر گاوں میں پرائمری مڈل سکولز, تارو سے دلہ زاک تک اور سٹیشن سے چراٹ تک روڈ کی تعمیر کے علاوہ جبہ سے نکاسی آب اور جبہ خشک میں پینے کے پانی کے لیے ٹیوب ویلز لگائے. اس لیے آپ سب کو چاہیے کہ کردار ادا کرنے والے اور کاروبار کرنے والوں میں فرق جان کر اپنے آنے والی نسلوں کا مسقبل محفوظ کرنے کے لیے اپنے ووٹ کا استعمال کریں. انشا ء اللہ اگر اس بار اللہ تعالی کے کرم سے اور آپ سب کے تعاون سے کامیاب ہوا تو تحصیل پبی کے ساتھ ساتھ ضلع نوشہرہ میں وہ ریکارڈ ترقیاتی کام کرونگا کہ لوگ میرے مدمقابل سیاسی لوگوں کو بھول جائینگے.