شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ پولیس نے دو قتل کے ملزمان کو گرفتار کردیا۔شاہپور میں میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹ شاہد علی اور دندئی میں اپنے والد کو قتل کرنے والے بھانجے کے قاتل گرفتارشاہپور اور دندئی جیسے واقعات شانگلہ میں پہلے نہیں ہوئے اپنے نوعیت کے بدترین کاروائیوں میں ملوث 8ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت نے پولیس کو ریمانڈ پر دے دئے۔ایک ملزم کی گرفتاری کیلئے پولیس کا دائرائے کار وسیع کردیا گیا۔ڈی پی او شانگلہ سجاد احمد صاحبزادہ نے ایس پی انوسٹی گیشن اور دیگر کے ہمراہ پولیس ہیڈکوارٹر الپوری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ دندئی میں گھریلو ناچاقی کی بناء پر بیٹے نے واپنے والد کو قتل کیا جس پر پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو جیل بھیجا۔ڈی پی او شانگلہ نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ دندئی واقعہ میں ملوث ملزمان نے پولیس کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کی کوشش کی اور پولیس نے اس سلسلے میں شانگلہ سے مانسہرہ اور لاہور تک ملزمان کی سراغ نکالنے کیلئے جدید آلات استعمال کئے۔اسی طرح شاہپور میں میڈیکل کے طالب العلم شاہد علی کے قتل میں ملوث ملزمان کو 24گھنٹوں میں آلائے قتل سمیت گرفتار کیا۔ڈی پی او شانگلہ سجاد احمد صاحبزادہ نے واضح کیا کہ دندئی قتل اپنی نوعیت کا شانگلہ میں پہلا ایسا واقعہ تھا کہ مقتول کے بھائیوں نے اپنے بتھیجے کو جیل سے رہا کرنے کے بعد جسم کے اندام دریائے سندھ میں پھینک کر لاش کو ریت میں دفن کردیا اور ملزمان نے بی بی اے بھی کرایا۔شانگلہ پولیس باربار ان سے ان کے بتھیجے ارشد علی کے بارے میں تحقیقات کی تاہم ملزمان پولیس کو گمراہ کرتے رہیں اور پولیس ارشد علی کی تلاش میں دندئی،مانسہرہ اور پھر لاہور تک پہنچ گئی اور آخر کار پولیس نے کامیابی حاصل کرکے دندئی واقعہ کے اصل ملزمان کی گرفتاری کی۔ڈی پی او شانگلہ نے شاہپور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شاہد علی جو کہ میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا چُھٹیوں کیلئے گھر آیا تھا اور اپنے چچازاد کے ہمراہ شونیال سر شکار کیلئے گئے تھے جہاں پر ان کو پہلے ہی سے دھمکیاں تھی کہ اس جنگل میں آپ نہیں آسکتے جسکو پولیس نے ٹریس کرتے ہوئے شاہد علی کے ملزمان کو آلائے قتل سمیت گرفتار کرلیا۔پریس کانفرنس میں ایس پی انوسٹی گیشن زمان خان نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں مقدمات میں تحقیقاتی پولیس نے بھرپور کوشش کی ہے اور کامیابی ملی۔پریس کانفرنس میں ایس ایچ او دندئی محمد عارف،ایس ایچ او کروڑہ محمد افضل،تفشیشی افسران،سرکل بشام اور الپوری کے ڈی ایس پیز بھی موجود تھے اور صحافیوں کے مختلف سوالوں کے جوابات دئے۔دندئی واقعہ میں ایک اور ملزم کی تلاش اب بھی جاری ہے جس کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔ڈی پی او شانگلہ نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات میں شانگلہ پولیس کیساتھ تعاون کیا جائے کیونکہ شانگلہ ایک پُرامن علاقہ ہیں،کچھ عناصر غیر انسانی فعل کرکے یہاں کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔انھوں نے والدین سے اپیل کی کہ موجودہ دور میں وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر بنائے رکھتے ہوئے ان کے اخراجات اور نقل و حرکت محدود کریں۔۔