پشاور(مانند نیوز) ۳۱مئی ۲۰۲۴دہلی مشہور و معروف مولانا محمد یوسف قاسمی دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلامیں تھیدارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعدہندستانی فوج میں بحیثیت امام و خطیب ملازم ہو گییتھیفوج کی ملازمت کے دوران ملک کے مختلف فوجی مراکز میں رہے مگر جہاں بھی رہے اپنی مذہبی شناخت و دینی و ضع و قطع اور اپنے وقار و اعتبار واعلی اخلاق و کردار کے ساتھ رہے، آخرمیں راج رائفل دہلی سے صوبیدار کے منصب پر فائزرہ کر ریٹائرڈ ہوئیاور فوج کی ملازمت سے ریٹائرمینٹ کے بعد امیر شریعت حضرت قاری محمد عثمان منصور پوری سابق صدر جمعیت علماء ہند کی تحریک اور حضرت مولانا سید محمود مدنی کی تائید سے جمعیت علماء ہند کے ناظم دفتر اور محاسب ہو گیے تھے،مولانا محمد یوسف قاسمی بڑے وضعدار، ملنسار اور خوردنواز تھے،مولانا محمدیوسف قاسمی سیدارالعلوم دیوبند کے زمانہ طالب علمی کے قیام کے دوران میری پہلی ملاقات حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوری کے دولت خانے پر ہوئی تھی حضرت مولانا ریاست علی ظفر بجنوری نے میرا تعارف کرایاتھا و ہ مخلصانہ رشتہ شفقت و محبت ان کی زندگی بھر قائم رہا،ابھی ایک دوہفتہ قبل ان کا فون آیا تھا ان کی آواز میں کافی نقاہت تھی مگر مجھے قطعاً گمان بھی نہ تھاکہ اس قدر جلد داغ فراق دے جائیں گے ان خیالات کا اظہار مولانا عطاء الرحمٰن قاسمی چیئر مین شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا ہے،مولانا مفتی عطاء الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ مولانا محمد یوسف قاسمی بڑے بے ضرراور بڑے محتاط انسان تھے ان کے انتقال سے جہاں قوم و ملت کا عظیم خسارہ ہوا ہیوہاں میرا ناقابل تلافی ذاتی نقصان بھی ہوا ہیوہ ماہنامہ براھین کے مستقل قاری اور دعا گو تھے اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے اور ان کے مراتب و درجات بلندکرے اور ان پسماندگان و لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔آمین!