ملاکنڈ (مانند نیوز)گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور تعمیر و ترقی میں شعراء و ادبا کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے، ملاکنڈ کی سرزمین دیگر شعبوں سمیت شعر و ادب کے حوالے سے انتہائی زرخیز ہے، بہت جلد گورنر ہاؤس میں سنٹرل ایشیا کی سطح پر شعرا و ادبا کو بلاکر زبان و ادب کی ترقی کے لئے سیمنار اور مشاعرہ کا انعقاد کریں گے، جس میں خیبر پختونخوا سمیت سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں مقیم پشتو شعرا کے علاوہ افغانستان کے شعرا کو شامل کرنے کی کوشش کریں گے، ادبیہ تنظیم کی طرف سے اپنی مدد اپ کے تحت عظیم الشان کانفرنس پر منتظمین کو مبارکباد اور اپنے طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتا ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ادبی تنظیم مرستیال لیکوال مل ملاکنڈ کی طرف سے مقامی شادی ہال میں ایک روزہ کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، کانفرنس میں صوبہ کے مختلف اضلا ع سے تعلق رکھنے والے نامور شعراء ادباء،یورسٹیز او رکالجز کے پشتو ڈپارٹمنٹس کے چیئرمین اور پروفیسرز نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے پشتو ادب اور نصاب کے حوالے سے تفصیلی لیکچرز دے زبان و ادب کے ترویج و ترقی کے لیے سفارشات پیش کئے، تنظیم کے چئیرمین بخت روان عمر خیل نے کانفرنس کی قرار دادیں اورسپاسنامہ پیش کیا جبکہ سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر اباسین یوسفزئے نے کانفرنس شرکاء کی لیکچرز کا سرسری جائیزہ پیش کیا، پی پی پی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا، سابق صوبائی صدور ہمایون خان، نجم الدین خان، اے این پی کے ضلعی صدر اعجاز کان، مسلم لیگ کے ضلعی صدر سجاد خان،جماعت اسلامی کے امجد علی شاہ اور دیگر کارکن بھی اس موقع پر موجود تھے، اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے خطاب میں کہا انکی پوری کوشش ہے ہرمکتبہ فکر کے ساتھ مل بیٹھ کر اس قوم کے مسائل کے حل کیلئے راستہ نکالاجائے،معاشرے کے گرتے ہوئے اخلاقی معیار کی بحالی، اقدار و روایات کی پاسداری اور قوم کو اپنے مشاہیر،مذہب اور تاریخ سے ازسرِنو جوڑنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں محققین نے جو تجاویز اور قراردادیں اور اسپاس نامہ پیش کیا ہے اس پر سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں گے، گورنر نے اس موقع پر کانفرنس کے شرکاء میں شیلڈ بھی تقسیم کیے. تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا صوبائی حکومت کی قیادت کرپشن اور چوری کے پیسوں پر اپس میں لڑ رہی ہے، جب سابق وزیر شکیل خان نے بانی پی ٹی آئی سے شکایت کی تو انہوں نے چوروں کو پکڑنے کے لیے ڈاکوؤں کی کمیٹی تشکیل دی، اب کرپشن پر بات روکنے کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جاتا، انہوں نے کہا کہ ائندہ پانچ چھ ماہ میں چکدرہ سے اپر چترال تک ایکسپریس وے کی تعمیر شروع ہوگی جس کے بدولت تعمیر و ترقی یہاں خود بخود آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں، جب تک ہم آئی ایم ایف پاس کے پاس جائینگے تو مہنگائی ضرور ہے البتہ بجلی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے تربیلہ ڈیم کی بندش کی جو دہمکی دی تھی اس پر عمل نہیں کرسکتے، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ہمیں کسی قسم کے ٹیکس منظور نہیں جس کے لیے وہ خود ملاکنڈ کے عوام کے پاس آئے ہیں۔ #