وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر میں مشران کی کوششوں سے دو قبائل کے درمیان 23 سال پرانی دشمنی ختم کرکے دوستی میں بدل دی گئی۔ یہ خوش آئند اقدام علاقے کے لیے نہایت مثبت ثابت ہو رہا ہے۔ تنازعہ دو فریقین کے درمیان تھا: ایک طرف چاچا عبد الرسول (والد عبدالحنان کاکاخیل) اور چاچا عبدالودود (والد عبدالحنان) جبکہ دوسری طرف عبدالشکور (والد عبدالولی) اور ولی اللہ (والد عبدالولی) شامل تھے۔ مشران کی انتھک کوششوں اور گفت و شنید کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو معاف کرکے امن کی راہ پر چلنے کا عزم کیا۔ اس تاریخی صلح کے موقع پر علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اور مقامی لوگ مشران کے اس اقدام کو سراہ رہے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ جنوبی وزیرستان لوئر میں مشران کی جدوجہد سے کئی دیگر دیرینہ دشمنیاں بھی ختم ہو چکی ہیں، جس سے علاقے میں امن و سکون کی فضا قائم ہو رہی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مشران کی دانشمندانہ کوششوں سے علاقے کے اندر مزید تنازعات کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس صلح کے بعد علاقے کے عوام میں اتحاد اور بھائی چارے کا جذبہ مزید مضبوط ہو رہا ہے، جو دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔