پشاور (مانند نیوز) خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن (KPIC) کے کمشنرز کی تعیناتی پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک شہری نے کمیشن کے سمن پر پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ شہری نے کہا کہ کمیشن کی غیر شفاف تقرری اور اپنے نعرے "جاننا آپ کا حق” کے برعکس معلومات کی فراہمی سے انکار شفافیت کے دعوے کی نفی ہے۔ شہری نے کمیشن کے کمشنر 2 کی تعیناتی پر کئی اہم سوالات اٹھائے تھے اور 5 دسمبر 2024 کو خیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن سے تفصیلات طلب کی تھیں، جن میں تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ تجربہ، تعیناتی کے عمل، اور کسی ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق معلومات شامل تھیں۔ تاہم، کمیشن نے ان سوالات کا جواب نہیں دیا، جس پر شہری نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔شہری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انفارمیشن کمیشن میں بھی وہی طرزِ عمل اختیار کیا گیا ہے جو ملک کی انتخابی سیاست میں دیکھا جاتا ہے، جہاں فارم 45 حقیقی عوامی نمائندوں کی علامت ہے، جبکہ فارم 47 غیر جمہوری طریقوں سے منتخب کردہ افراد کی نشاندہی کرتا ہے۔ شہری کا کہنا ہے کہ کمیشن کی حالیہ تعیناتیاں فارم 47 کی سیاست کا عکس پیش کرتی ہیں، جہاں شفافیت اور میرٹ کو پسِ پشت ڈال کر مخصوص افراد کو نوازا گیا ہے۔ شہری نے کہا کہ کمیشن، جو عوامی معلومات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے، اگر خود شفافیت کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا تو وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کیسے کرے گا؟ انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن کی کارکردگی اور تعیناتی کے عمل کی غیر شفافیت نہ صرف کمیشن کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے شدید مایوسی کا باعث بن رہی ہے۔ شہری نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمیشن کی تقرریوں پر شہریوں کے تحفظات دور کریں اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیرِ اعلیٰ اپنے آئینی حق کا دفاع کرتے ہوئے ریاست سے سوالات کر سکتے ہیں، تو ایک عام شہری کیوں اس حق سے محروم رہے؟ شہری نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کمیشن اپنے کمشنرز کی تعیناتی کے عمل کی تفصیلات فراہم نہیں کرتا، اس کے جاری کردہ سمن کو قبول کرنا غیر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی موجودہ کارکردگی شفافیت اور جمہوری اصولوں کی نفی کرتی ہے، جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ عوامی حلقوں میں بھی کمیشن کی غیر شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور کمیشن کو حقیقی عوامی خدمت کا ادارہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے کمیشن کی تقرریوں، پالیسیوں اور کارکردگی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے