اسلام آباد (مانند نیوز)قطر پر حالیہ اسرائیلی حملے سے متعلق واشنگٹن کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی یا نہیں؟ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد سامنے آ گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو حملے سے ڈھائی گھنٹے قبل آگاہ کر دیا تھا اور اگر ٹرمپ مخالفت کرتے تو کارروائی روکی جا سکتی تھی جبکہ امریکی حکام اور خود ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مؤقف کی سختی سے تردید کی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں حملے کا علم عوامی ذرائع سے ہوا اور اسرائیل نے براہِ راست انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔

امریکی حکام کے مطابق اطلاع اُس وقت دی گئی جب اسرائیلی طیارے پہلے ہی روانہ ہوچکے تھے اور میزائل فضا میں تھے، اس لیے ردعمل کا کوئی موقع نہیں تھا۔

قطر پر حملے سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو آگاہ کر دیا تھا، امریکی میڈیا

واضح رہے کہ اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا، حملے میں 5 حماس ارکان اور ایک قطری سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے۔

اس حوالے سے حماس کا کہنا تھا کہ اُن کے مرکزی رہنما کارروائی سے کچھ دیر پہلے عمارت چھوڑ چکے تھے، اس لیے وہ محفوظ رہے۔

واقعے کے بعد اسرائیل نے بیان جاری کیا تھا کہ یہ کارروائی اس کا یک طرفہ فیصلہ تھی اور وائٹ ہاؤس کے بیان میں واقعات کی درست عکاسی کی گئی ہے۔

اسرائیل کا قطر پر یہ حملہ ناصرف امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں نئی کشیدگی کا باعث بنا ہے بلکہ قطر اور واشنگٹن کے تعلقات پر بھی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے سے اسرائیل کی خطے میں تنہائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے