سخاکوٹ(مانند نیوز) سخاکوٹ کے چار اقوام سہ صدہ، خٹک، شلمانی، ملی خیل ازی خیل کاایک اجلاس زیر صدرات حاجی لیاقت منعقد ہوا جس میں چاروں اقوام سے تعلق رکھنے والے مٹی شماران کے افراد نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔اجلاس میں سخاکوٹ شامیلات کے حوالہ سے چاروں اقوام نے اپنے اپنے رائے کااظہار کیا۔مقررین حاجی لیاقت علی، عمرمحمدلالا، محمدعزیز، حیات الرحمان، امجد علی شاہ، حمید، ایوب، عمردین، سیداحمد، یوسف خان پرانہ سخاکوٹ، شیرزادہ، غفور، جاوید خان، بشیر خان، باچہ اسلام، ماسٹر صدیق، شاہ نواز خان اور ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سخاکوٹ شامیلات چار اقوام کی مشترکہ جائیداد ہیں اور اس پر چاروں اقوام متحد ہیں شامیلات میں کسی اور کی بے جا دخل مداخلت اور خرید وفروخت نہیں مانتے شامیات میں خرید وفروخت کی وجہ سے شروفساد کاخطرہ ہے۔مقررین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شامیلات فروخت نہیں ہوسکتاکیونکہ یہ بندوبستی اراضی نہیں شامیلات کی اراضی ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سخاکوت شامیلات کوچاروں اقوام میں مساوی تقسیم کریں تاکہ شروفساد کا خطرہ ختم ہوجائے۔حاجی لیاقت علی نے کہا کہ بندوبست کاکام جاری ہیں بندوبستی افسیر نے کھتونی کی ہے اور شجرہ نصب کی تصدیق کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم لفٹ ایریگیشن نہر اور نیا نہر کے درمیان اراضی پر کسی کی دخل مداخلت نہیں مانتے اخر میں چاروں اقوام کی کمیٹی بنائی گئی جس میں شلمانی کندی سے باچہ اسلام، محمدعزیز، سہ صدہ سے یوسف خان پرانہ سخاکوٹ، خٹک خوازہ خیل سے طاہر خالد، ازی خیل ملی خیل سے امین، شاہسواراور فیاض خان شامل ہیں۔اس کمیٹی کو اختیار دیا گیا کہ وہ شامیلات کے مسائل پر دوسری فریق جو بھی ان سے بات چیت کریں کمیٹی کافیصلہ ہمیں قبول ہوگااس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ سخاکوٹ شامیلات کوعدالتی فیصلہ کی روشنی میں چاروں اقوام میں تقسیم کریں۔