اسلام آباد (مانند نیوز)ایران اور لبنان میں جنگیں شروع کرنے والا اسرائیل اس وقت دونوں تنازعات میں جنگ بندی پر عمل پیرا ہے جبکہ ان جنگوں کا انجام اسرائیل کے بجائے امریکا طے کر رہا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع اور ایران سے مذاکرات میں اسرائیل کی عدم شمولیت نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ایران بات چیت چاہتا ہے، دیکھنا ہے معاہدہ ہو سکتا ہے؟ ٹرمپ
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے طویل عرصے تک ایران اور حزب اللّٰہ کو بڑا خطرہ قرار دیا اور جنگ کی حمایت کی لیکن موجودہ صورتِ حال اس کے قابو سے باہر ہے، اسرئیلی وزیرِ اعظم نے عوام سے ایران اور حزب اللّٰہ کے خاتمے کے وعدے کیے تھے جو پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔
حالیہ سروے کے مطابق زیادہ تر اسرائیلی شہری چاہتے ہیں کہ جنگ جاری رہے چاہے اس کے نتیجے میں امریکا کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائیں جبکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی اسرائیلی عوام میں غصہ پیدا کر رہی ہے۔
رپورٹ میں شائع کیے گئے تجزیے کے مطابق اسرائیل اثر و رسوخ رکھتا ہے مگر حتمی فیصلے واشنگٹن کرتا ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی کامیابیوں کو سیاسی فائدے میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔
دورے میں ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے، اسماعیل بقائی
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی حکومت بدستور قائم ہے، جوہری پروگرام جاری ہے اور خطے میں طاقت کا توازن اسرائیل کے حق میں واضح طور پر تبدیل نہیں ہوا جسے ایک اسٹریٹجک ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔





