پشاور (مانندنیوز) ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا ہے کہ طلبہ کمیونٹی اس وقت سنگین مسائل کا شکار ہے اور بدقسمتی سے ان کے مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر پلیٹ فارم موجود نہیں۔ معاشرے کے ہر طبقے کے پاس نمائندگی کے لیے یونین موجود ہے، تاہم طلبہ کو اس بنیادی حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تنظیمی دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندی آمرانہ دور میں لگائی گئی تھی، جسے اب ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے بھرپور اور منظم تحریک چلائی جائے گی اور اس جدوجہد میں کامیابی طلبہ کا مقدر ہوگی۔ ناظم اعلیٰ نے کہاکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ناظم اعلیٰ نے کہا کہ سہارا میڈیکل کالج نارووال میں طالبات پر انتظامیہ اور پولیس کے تشدد کے واقعات قابلِ مذمت ہیں اور تعلیمی اداروں میں ایسے رویے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔انہوں نے کہا کہ جامعات کے وائس چانسلرز بعض اوقات اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں من مانے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ طلبہ کو اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے روکا جاتا ہے، جس کے باعث وہ ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا شکار ہو جاتے ہیں، اور بعض افسوسناک واقعات میں یہ صورتحال خودکشی جیسے انتہائی اقدام تک جا پہنچتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں انتظامی نااہلی کے باعث مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اسلامی جمعیت طلبہ ہر سطح پر طلبہ کی آواز بنے گی اور ان کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔ طلبہ میں شعور و آگاہی بیدار کی جائے گی تاکہ وہ اپنے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور ان کے حل کے لیے منظم انداز میں آگے بڑھیں۔ ناظم اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکمران تعلیم جیسے اہم شعبے کو نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ قوموں کی ترقی کا دارومدار تعلیم اور نوجوانوں پر ہوتا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں طلبہ نے اپنے حقوق کے لیے منظم جدوجہد کی اور ایک بھرپور عوامی تحریک کے ذریعے اپنی آواز مؤثر انداز میں منوائی۔ اسی طرح پاکستان میں بھی طلبہ اور نوجوانوں کو اپنے مستقبل، بہتر تعلیمی نظام اور حقوق کے حصول کے لیے میدان عمل میں نکلنا ہوگا۔
0





