پشاور (مانند نیوز) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا خصوصاً جنوبی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے بھرپور کوششیں جاری ہیں کیونکہ صوبے میں پائیدار امن ہی معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافے کی بنیاد ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع چارسدہ میں بیرسٹر ارشد عبداللہ کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ گندم اور سی این جی سمیت عوامی مسائل کے حل کیلئے وہ صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس محدود وسائل میں بہترین خدمات انجام دے رہی ہے لیکن صوبائی حکومت پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے مؤثر اقدامات نہیں اٹھا سکی۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو درپیش مسائل کے حل کیلئے وہ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل اور وفاقی حکومت نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور تنازع کے حل کیلئے اہم اور مثبت کردار ادا کیا جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ گورنر نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں جامع اور دیرپا اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے اپنے محافظ کو اسمبلی فلور پر لانا ایک غیر آئینی اقدام تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر صوبائی حکومت مرکز میں خیبرپختونخوا کا مؤثر مقدمہ پیش کرنے میں ناکام رہی۔ گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ مضبوط وفاق ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے اور مسائل کا حل محاذ آرائی یا ہٹ دھرمی میں نہیں بلکہ مذاکرات اور باہمی تعاون میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلے بجٹ منظور نہ ہونے کے دعوے کر رہی تھی، تاہم صورتحال اس کے برعکس ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں میں صوبے کیلئے زیادہ وسائل اور مراعات حاصل کرنے کی ضرورت تھی، لیکن صوبائی حکومت اس حوالے سے بہتر نتائج حاصل نہیں کر سکی۔ – #