اسلام آباد (مانند نیوز) اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے بانئ پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق 2 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ توہینِ عدالت کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بینچ پہلے ہی نمٹا چکا ہے، جبکہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں سلمان اکرم راجہ کی جانب سے عدالت میں دی گئی یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملاقات کے بعد جیل کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی، تاہم سماعت کے دوران کسی نے اس معاملے پر اعتراض نہیں اٹھایا، جبکہ عدالتی حکم کے باوجود میڈیا سے گفتگو کر کے اس کی خلاف ورزی کی گئی۔
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں شیر افضل کیس میں جیل رولز 265 کو خلافِ قانون قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بانئ پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی جیل رولز کے تحت ہر منگل کو باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے، جبکہ اب تک دونوں کی 84 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سلمان صفدر بھی 10 فروری اور 4 اپریل 2026ء کو بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کر چکے ہیں۔
بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل کے میڈیکل افسران دن میں 3 مرتبہ ان کے کھانے پینے کی جانچ اور طبی معائنہ کرتے ہیں، متعدد سرکاری معالجین بھی بانیٔ پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کر چکے ہیں، جس کا ریکارڈ موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماہرِ امراضِ چشم سے بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج بھی کرایا جاتا رہا ہے اور ان کی 1 آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں 4 نومبر 2023ء سے 10 اگست 2026ء تک مختلف طبی ماہرین کی جانب سے کیے گئے 39 طبی معائنوں کی سمری بھی شامل کی گئی ہے۔
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ مقدمہ نمٹا دیا جائے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کل کیس کی سماعت کرے گا۔