بہاولپور (گل حماد فاروقی) جنوبی پنجاب کا نہایت تاریحی ضلع بہاولپور ہر لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ سترویں صدی میں بہاولپور کا ریاست قائم ہوا تھا اور یہاں کے نواب نے 1925 میں یہاں ایک علمی درس گاہ کا بنیاد رکھا تھا جو فارسی اور عربی زبان میں دینی علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اسی جگہہ5اکتوبر 1950 کو بریگیڈئر صاحب زادہ محمد عباس خان نے جامعہ عباسیہ بہاولپور کا سنگ بنیاد رکھا۔اس علمی درسگاہ قائم کرنے کا مقصد مصر کی جامعۃ الازہر کے طرز پر ایک درس گاہ قائم کرنا تھا۔1975 میں اسے باقاعدہ طور پر یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا اور اسے جامعہ عباسیہ سے اسلامی یونیورسٹی بہاول پور کا نام دیا گیا۔ اس کیلئے حکومت پنجاب نے 1300 ایکڑ زمین بغدا دالجدید کیمپس کو دی۔اس جامعہ میں نوی فی صد تمام علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ ہمارے نمائندے کو حصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے انجنیر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے بتایا کہ اس جامعہ کی کل پانچ کیمپس ہیں جن میں تین کیمپس بہاول پور میں ہیں جبکہ ایک کیمپس بہاول نگر اور دوسرا رحیم یار خان میں ہے۔ ڈاکٹر اطہر نے کہا کہ سب سے بڑا کیمپس بغداد الجدید ہے اسی فیصد طلباء و طالبات اس کیمپس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ بہاول نگر میں 5500 طلبا زیر تعلیم ہیں اور رحیم یا ر خان میں چار ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہاول پور شہر میں پرانا کیمپس ہے جو عباسیہ کیمپس کہلاتا ہے اور یہ تیس ایکڑ زمین پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کیمپس کو نواب صاحب صادق خان نے بناکر دیا تھا۔وائس چانسلر کے مطابق اس جامعہ کے بڑ ے کیمپس میں محتلف شعبہ جات ہیں جن میں ذرعی تحقیقاتی فارم،سولر انرجی پارک، فیکلٹی بلڈنگ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں منیجمنٹ سائنس، کمپیوٹر سائنس،آرٹس، سوشل سائنسز، ایجوکیشن،وغیرہ یہاں 13 فیکلٹیز اور چار کالجز ہیں۔ علم کے لحاظ سے اگر دیکھا جاے تو نوے فی صد علوم یہاں پڑھاے جاتے ہیں۔ ان میں بچلر سے لیکر پی ایچ ڈ ی جیسے اعلےٰ ترین درجے کی ڈگری بھی شامل ہیں۔اس جامعہ میں کپاس پر تحقیقاتی کام ہورہا ہے کیونکہ یہ علاقہ کپاس کیلئے نہایت مشہور ہے یہی وجہ ہے کہ اس جامعہ کی کوشش ہے کہ ایک ایسا بیج تیار کیا جائے جس پر موسمیاتی تغیر اور بیماریوں کا کم سے کم اثرات ہو۔ ابھی تک کپاس کئی اقسام کی بیکج متعارت کرواچکے ہیں اور مزید کام جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک جنرل پبلک یونیورسٹی ہے اور اس کے کیمپس ریذیڈنشل یعنی رہایشی کیمپس ہیں۔ ہر کیمپس میں ہاسٹل موجود ہے اور اس جامعہ کے پاس چھ ہزار طلباء و طالبات کو ہاسٹل میں رکھ سکتے ہیں۔ جن میں ساڑھے تین ہزار طالبات کی قیام کی گنجائش موجود ہے اسی طرح ڈھای ہزار طلباء کی رہائش کی گنجائش موجود ہے۔اس جامعہ میں ملک بھر سے طلباٗ تعلیم حاصل کررہے ہیں جن میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوسو طلباء زیر تعلیم رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان، سابقہ فاٹا، خیبر پحتون خواہ، اور ملک کے دیگر حصوں سے بھی بڑی تعداد میں طلباء یہاں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حطہ کپاس کیلئے بہت مشہور ہے اور کچھ عرصے سے کپاس پر محتلف قسم کے بیماریوں سے زمیندار کو نقصان ہوتا تھا ہم نے محتلف تجربات سے گزر کر ایک ایسا بیج متعارف کروایا ہے جو زیادہ سے زیادہ فائدہ دے سکے اس کے علاہ باغات پر بھی ہمارا ذرعی شعبہ میں کا م ہورہا ہے حاص کر پھل دار باغت میں بھی بہتری لانے کیلئے کام ہورہی ہے ہمارے زڑعی سائنسدان اس پر نہایت دلفشانی سے کام کررہی ہے جس سے ذرعی شعبے میں انقلاب آئے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چولستان انسٹی ٹیوٹ آف ذیزرٹ اسٹڈیز کے نام پر ہمارا ایک شعبہ کام کررہا ہے جو چولستان میں جنگلی حیات پر محتلف دیگر اداروں سے بھی مل کر کام رہا ہے تاکہ یہاں جنگلی حیات کیلئے بھی حوراک میسر ہو اور ان کو بھی فروغ مل سکے۔ ٍذراعت کے حوالے سے ہم کافی پر امید ہیں ذرعی شعبہ میں ہمارے چار ہزار طلباء کام کررہا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بھی اس میں استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ ہم اس کے زریعے ذرعی شعبہ میں ایک انقلاب برپا کرسکے۔ ہمیں پانی کی ذحائر کی بھی حیال رکھنا چاہئے تاکہ پانی ضائع کئے بغیر اپنا ہدف پورا کرسکے۔انہوں نے کہا کہ یہ جامعہ الازہر کے طرز پر قائم کیا گیا تھا جہاں شروع میں طب و جراحت پر بھی کام ہوتا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف کلچر ہیریٹیج قائم کیا جارہا ہے جو اس حطے کی ثقافت کی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ جس میں مقامی کمیونٹی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اور ہاکڑہ تہذیب کے ساتھ ساتھ دیگر تہذیبوں کو بھی محفوظ رکھے گا۔اس جامعہ نے بڑے بڑے نامور شحصیات پیدا کئے جن میں جاوید چوہدری، بیورو کریسی بھی یہا ں سے پڑھے ہوئے ہیں۔بہاول پور بذات خود ایک عجائب گھر ہے جہاں متعدد قلعے اور محلات موجود ہیں اور یہ جامعہ اس تہذیب کو محفوظ کرنے میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس جامعہ نے علمی لحاظ سے ایک انقلاب برپا کیا ہوا ہے ابھی ہم نرسنگ کالج کھول رہے ہیں۔ تعلیمی اخراجات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہاں نہایت مناسب فیس پر تعلیم دی جاتی ہے اب بھی بیس ہزار روپے ایک سمسٹڑ کا فیس ہے پچھلے سیشن میں گیارہ ہزار طلباء کو چار سو ملین روپے کا سکالر شپ دیا ہے ہمارے کل بجٹ کا 25 فی صد بنتا ہے۔ برطانیہ سے بھی سکا ٹش سکالر شپ میں 71 طالبات کو سکالر شپ ملا تھا۔بوٹانیکل گارڈ ن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ ریت کے ٹیلے اور ریگستان تھا اسے ہم نے باغ میں تبدیل کیا۔ اس وقت ہمارے پاس دس ہزار کامیاب درخت ہیں اور دس ہزار پودے اب مزید لگنے ہیں۔ اسی طرح بغداد کیمپس میں 60000 درخت لگائے گئے ہیں۔ ایک لاکھ پودے مزید لگائے جائیں گے اور ہر سال اس مقابلے میں انعام بھی جیت لیتی ہے۔ اس جامعہ میں ایک ہزار سے زیادہ فیکلٹی اراکین ہیں۔ اس کے علاوہ بارہ سو وزٹنگ فیکلٹی ممبرز ہیں جو ہمارے کیمپسز میں پڑھاتے ہیں ہمارا پروگرام یہ ہے کہ اگلے چھ مہینے مین تین سو فیکلٹی ممبرز رکھیں گے اور بارہ مہینے میں پانچ سو فیکلٹی ممبرز رکھا جارہا ہے۔ مشکلات کے حوالے انہوں نے بتایا کہ مشکلات اور چیلنجز تو ہیں مگر امید ہے حکومت ہمارے ساتھ ضرور تعاون کرے گا۔ہمارا پہلا ہدف معیاری تعلیم دینا تھا اور اسے دنیا کے ٹاپ ایک سو لیول کے جامعات میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو اپنے پیغام میں کہا کہ یہاں پرانے بادشاہوں اور شہزادوں کی ماحول کی طرح تعلیم دی جاتی ہے اس سے ضرور استفادہ کرنا چاہئے۔ہمارے نمائندے نے جب اس سے سوال کیا کہ چترال جیسے پسماندہ حطے کے طلباء کیلئے کیا خوش حبری دینا چاہتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ واحد یونیورسٹی ہے جس میں اوپن میرٹ پر داحلہ لینے کیلئے پنجاب کی ڈومیسائل ضروری نہیں ہے ہاں چترال کے طلبا و طالبات کے ساتھ ہر قسم سے تعاون کیا جائے گا اور یونیورسٹی ا ن کیلئے سکالر شپ کابھی بندوبست کرے گی تاکہ مستحق طلباء کو مفت تعلیم مل سکے۔ واضح رہے کہ اس یونیورسٹی سے تقریباً 45000 طلباء و طالبات علم کے حصول میں استعفادہ حاصل کررہے ہیں جو یقینی طور پر نہ صرف اس حطے کیلئے بلکہ پورے پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کیلئے بھی بہت بڑی خدمت ہے۔