وادی لیپہ (مانند نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف نے جن لوگوں پر تنقید کی اس کو کسی ادارے پر تنقید کا نام نہ دیا جائے اس لئے کہ ان لوگوں نے جو کام کیا اس کا نقصان نہ صرف پاکستان اور کشمیر کو پہنچا بلکہ اداروں کو خود بھی اس کا نقصان پہنچا، اگر پاکستان کی ترقی کا راستہ اپنا نا ہے تو اداروں کو بھی نوازشریف کے بیانیہ پر چلنا ہوگا، میدان میں عمران خان، نواز شریف کا مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ وہ  بزدل آدمی ہے، کیونکہ عوام کی طاقت پیچھے نہیں ہے تو اس کو ساز باز اور دھاندلی کر کے چو ر اور ڈاکو کے الزام لگا کر اس کو نواز شریف کو میدان سے باہر رکھنا پڑتا ہے، کشمیریوں کا حق ان سے کوئی چھین لے تو نواز شریف اور مریم بیٹھ کر دیکھتے رہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ سنو عمران خان وادی لیپہ کہہ رہی ہے، آٹا چورو، چینی چورو جان چھوڑو۔ میں عمران خان کو کہناچاہتی ہوں کہ وادی لیپہ اور کشمیر آکر اپنا وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، کشمیر نے اپنا فیصلہ پہلے ہی سنا دیا، ریاستی وسائل کو کھلے عام استعمال کرنے کے باوجود تحریک انصاف کی حالت آزاد کشمیر میں پتلی نظر آتی ہے اور تمام ریاستی وسائل جھونکنے کے باجود عمران خان کو سادہ اکثریت کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کااظہار مریم نواز زشریف نے آزاد جموں وکشمیر کے علاقہ وادی لیپہ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ مریم نواز شریف کشمیریوں کی سچی بیٹی ہے کیونکہ مریم نواز کا باپ بھی کشمیری ہے اور اس کی ماں بھی کشمیری ہے، یوں تو ہر پاکستانی کشمیری ہے اور کشمیر سے محبت کرتا ہے لیکن مریم نواز شریف کی رگوں میں کشمیر کا خون ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیپہ ویلی کا جذبہ بتارہا ہے کہ کشمیر میں پھر شیر آرہا ہے، ایک ووٹ چور جو یہاں نظر لگاکر بیٹھا ہوا ہے میں اس کو بتانا چاہتی ہوں، میں عمران خان کو بتانا چاہتی ہوں کہ کشمیر کے چپے چپے سے تمہارے آنے سے پہلے ہی آواز آرہی ہے،مک گیا تیرا شو نیازی،گو نیازی گو نیازی۔ابھی تو تم یہاں آئے نہیں ہو اورگو نیازی گو نیازی کا نعرہ لگ گیا۔ انہوں نے کہا کہ گومیں اس بات پر یقین نہیں رکھتی کہ میں نیازیوں کو کچھ کہوں، نیازی میرے لئے محترم ہیں اس لئے میں بطور قبیلہ یا پہچان ان کو کچھ نہیں کہنا چاہتی، گو عمران گوزیادہ بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر گلگت بلتستان اور کشمیر کے انتخابات کے حوالہ سے کہا جاتا ہے کیونکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے لوگوں کو پاکستان کی وفاقی حکومت سے کچھ مالی فوائد کی ضرورت ہے اس لئے جو حکومت وقت ہوتی ہے ووٹ اس کو دیا جاتا ہے، کشمیریو میں آپ کو یہ بات بتادینا چاہتی ہوں کہ کشمیریوں کا رزق کسی پاکستان کی وفاقی حکومت کے ہاتھ میں نہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اگر آپ کو کوئی بجٹ ملتا ہے تو وہ کوئی بھیک نہیں ملتی بلکہ کشمیریوں کا حق ہے جو ان کو ملتا ہے اور کشمیریوں کا حق ان سے کوئی چھین لے تو نواز شریف اور مریم بیٹھ کر دیکھتے رہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ میں یہاں ووٹ مانگنے نہیں آئی بلکہ اس مہم نے مجھے کشمیر کے چپے چپے کی سیر کروادی ہے۔ کشمیری لوگ اتنے خوبصورت لوگ ہیں، محبت کرنے والے لوگ ہیں اور دل کے سچے لوگ ہیں، خوددار لوگ ہیں، مجھے ان سے ملنے کی سعادت نصیب ہوئی آ، پ سب کا بہت بہت شکریہ۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نیلم ویلی اور لیپہ ویلی داخل ہوئی تو مجھے جگہ جگہ پاک فوج کے جوان نظر آئے جو دشمن سے ہماری حفاظت کرتے ہیں، میرا ایک بیٹا ہے اور اس کا نام ہے محمد جنید، مجھے ہر اس بچے میں جو پاک فوج وردی پہن کر کھڑا تھا، اپنے گھر والوں سے کٹ کر کھڑا تھا اور وطن کی حفاظت کے لئے کھڑا تھا، مجھے ان بچوں پرجو پاک فوج کی وردی میں ملبوس تھے مجھے پر بہت پیار آیا، میں نے بھی ان کو سلام کیا اور ان کی اکثریت نے مجھے بھی سیلوٹ کیا تو میرا ان کے ساتھ ایک تعلق بنا، مجھے یہ خیال آیا کہ گھروں سے دور یہ ہماری حفاظت کررہے ہیں اور پہرے دے رہے ہیں لیکن عمران خان کی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے، ان کے گھر والے بھی اس سے کتنے متاثر ہوئے ہوں گے، مجھے تکلیف ہے اس بات کی کہ یہاں پر وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی دے رہے ہیں اور ان کی تنخواہیں، ان فوجی بھائیوں اور بیٹوں کی تنخواہیں آخری بار کب بڑھی تھیں، نواز شریف کے دور میں۔کئی لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لئے نواز شریف کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ شاید نواز شریف فو ج کے ادارے کا مخالف ہے تو شرم آنی  چاہئے، ان لوگوں پر، اگر فوج کا جب، جب بھی بجٹ بڑھا، فوجی جوانوں کی جب، جب بھی تنخواہیں بڑھیں تو نواز شریف کے دور میں بڑھیں،عمران خان گو کہ سلیکٹ ہو کر آیا ہے اس کے دور میں ان کی تنخواہیں نہیں بڑھیں، ایک تو یہ جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک اور قوم کی حفاظت کررہے ہیں دوسرا ان کو گھر کی فکر ہوگی کہ آٹا ختم ہے، چینی ختم ہے اور بچوں کی فیس کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ ہر گھر میں شوگر کا مریض موجود ہے اور نواز شریف کے دور میں انسولین کی چھوٹی سی شیشی جو 450روپے کی تھی اب اس کی قیمت 1100روپے تک پہنچ چکی ہے، مجھے پتا چلا کہ لوگوں کی روٹی پوری نہیں ہورہی اور انہوں نے انسولین لگانی چھوڑ دی اور وہ امراض کا شکار ہورہے ہیں۔ آٹا چورو، چینی چورو اوردوائی چورو ہی نہیں بلکہ کشمیر چورو۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف محب وطب ہے اور اس کی حب الوطنی کی گواہی نہ صرف کشمیر کے پہاڑ دیتے ہیں بلکہ اس کا دشمن بھی نواز شریف کی حب الوطنی کی گواہی دیتا ہے،نواز شریف اس دھرتی کا بیٹا ہے۔ نواز شریف نے جن لوگوں پر تنقید کی اس کو کسی ادارے پر تنقید کا نام نہ دیا جائے اس لئے کہ ان لوگوں نے جو کام کیا اس کا نقصان نہ صرف پاکستان اور کشمیر کو پہنچا بلکہ اداروں کو خود بھی اس کا نقصان پہنچا، اگر پاکستان کی ترقی کا راستہ اپنا نا ہے تو اداروں کو بھی نوازشریف کے بیانیہ پر چلنا ہوگا اور انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب سب لوگ وہی زبان بولیں گے جو آپ کا لیڈر نواز شریف بول رہا ہے۔  مریم نواز نے کہا کہ سنا ہے کہ عمران خان یہاں ووٹ مانگنے کے لئے آرہا ہے، کشمیریو اس سے پوچھنا، اس کے سرکاری جلسوں میں جانا اور پوچھنا کہ تم نے تین سالوں میں پاکستان کی ترقی کو ریورس گیئر لگا دیا ہے تو کیا راجہ فاروق حیدر کی سربراہی میں کشمیر میں جوترقی ہوئی اس کو بھی ریورس گیئر لگانے آرہے ہو، کیا تم کشمیریوں کا آٹا بھی چھیننے آرہے ہو، کیا کشمیریوں کی چینی بھی چھیننے آرہے ہو، کیا تم بھکاریوں کی طرح کشمیریوں کو بھی قطاروں میں لگانے آرہے ہو۔ پاکستان میں روزہ داروں کو ایک، ایک کلو چینی کے لئے قطاروں میں کئی کئی گھنٹے کھڑا کیا اور انگوٹھے پر سیاہی کا انمٹ نشان لگا دیا اور کہا کہ دوبارہ چینی مانگنے نہ آنا، کیا نواز شریف کے دور میں ایسا کبھی دیکھا تھا۔ مریم نواز نے کہا کہ ایک جماعت ایسی بھی ہے جو خدمت کرنے کی بجائے، عوام سے رجوع کرنے کی بجائے، ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے و ہ ووٹ چوری کرنے کے ماہر ہیں، اب جماعت اب آرٹی ایس کا بٹن نہیں دباتی بلکہ وہ جماعت اب الیکشن کمیشن کا پورا عملہ ہی اٹھا کر لے جاتی ہے۔ کشمیر کے الیکشن میں بے دردی سے پاکستان کے ریاستی وسائل استعمال کرنے والی جماعت، پاکستان کے وسائل استعمال کرنے والا ووٹ چور، کشمیر چور عمران خان کھلے عام ان کے وزراء یہاں پیسے بانٹتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں، ان کو بتا دینا کہ کشمیر کی عوام بکنے والی اور جھکنے والی نہیں اور ریاستی وسائل کو کھلے عام استعمال کرنے کے باوجود تحریک انصاف کی حالت آزاد کشمیر میں پتلی نظر آتی ہے اور تمام ریاستی وسائل جھونکنے کے باجود عمران خان کو سادہ اکثریت کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)اور نواز رشریف پر انہوں نے چور، چور کے جوالزامات لگائے اس کی قلعی بھی پاکستان کی عدالتوں نے کھول کر رکھ دی ہے، میدان میں عمران خان، نواز شریف کا مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ وہ  بزدل آدمی ہے، کیونکہ عوام کی طاقت پیچھے نہیں ہے تو اس کو ساز باز اور دھاندلی کر کے چو ر اور ڈاکو کے الزام لگا کر اس کو نواز شریف کو میدان سے باہر رکھنا پڑتا ہے۔ نواز شریف کے خلاف دھاندلی، ووٹ چوری، چور ہیں لوٹ کر لے گئے یہ بیانیہ جو عمران خان نے کھڑا کیا تھا یہ تمھارا بیانیہ آج منہ کے بل گر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے قراردیا کہ  نوازشریف، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق، راجہ قمر السلام اور مفتاح اسماعیل، خواجہ محمد آصف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں،وہ منہ کے بل پڑا ہے تمہارا کرپشن کا بیانیہ۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان یاد رکھیں مسلم لیگ (ن)اور (ن)لیگ کے شیر جاگ چکے ہیں تمہارے حلق سے چوری شدہ سیٹیں نکلوانا مسلم لیگ (ن)کے شیروں کو آگیا۔میں گذشتہ روز خبر یں پڑھ رہی تھی ان میں ایک خبر تھی کہ کابینہ کا اجلاس جس کی صدارت سلیکٹڈ اعظم کررہا تھا جس کا نام عمران خان ہے، نیب کے خلاف عمران خان اور اس کے وزراء بہت بولے۔انہوں نے کہا کہ نیب نواز شریف اور مسلم لیگ (ن)پر کوئی الزام ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی، تو یہ کس کی جیت ہے۔ سارے اداروں اور سارے ریاستی وسائل کو جھونک دیا پھر بھی نواز شریف اور(ن)لیگی لیڈروں پر ایک چیز بھی ثابت نہیں کرسکے۔ میں عمران خان کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ نیب کو کوسنے کی ضرورت نہیں اگر کچھ کرنے کی ضرورت ہے تو اپنے اعمال کی طرف دیکھو تم نے نواز شریف، اس کی پوری پارٹی اور اس کے خاندان پر جھوٹے الزام لگائے اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے جھوٹ کا پول پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا، آج تمہیں ایک ہی کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عمر کا تقاضا بھی ہے جب عمر70سال سے زیادہ ہو جاتی ہے تو انسان پیچھے مڑکر اپنے اعمال کی طرف دیکھتا ہے، اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتا ہے، میرا تمہیں مشورہ ہے کہ مزید ظلم کرنے کی بجائے اپنے نامہ اعمال کی طرف دیکھو، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو اور پاکستان او رکشمیر کے عوام سے معافی مانگو، بجائے کشمیر میں آکر ووٹ مانگنے کے جائے نماز بچھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو۔ انہوں نے کہا کہ 25جولائی کو صرف شیر پر مہر ہی نہیں لگانی بلکہ ووٹ پر پہرہ بھی دینا ہے اور اگر کوئی عادی ووٹ چور، ووٹ چوری کرتا پکڑا جائے تو اس کو چھوڑنا نہیں بلکہ اس کو گھر تک چھوڑ کرآنا ہے۔ جلسہ سے وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان اور دیگر نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے