مروت (مانند نیوز ڈیسک) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پسماندہ ترین ضلع لکی مروت میں ایک ایسا خاندان ہے ۔ جو آباؤاجداد سے لیکر آج تاریخ تک سیاست ، کاروبار اور خدمت خلق میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔ اور یہ تینوں صفات انھیں وراثت میں ملے ہیں ۔ وہ خاندان سیف اللہ برادران کے نام سے موسوم ہے ۔ سیف اللہ برادران کے والد بیریسٹر سیف اللہ خان ضلع لکی مروت کے پسماندہ گاؤں غزنی خیل میں 1915 میں پیدا ہوئے تھے ۔ لندن سے بیرسٹری کی ڈگری لینے کے بعد وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اور سب سے پہلا کیس اپنے علاقے کا لیا۔ قتل کا کیس لینے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ بطور وکیل کیس میں جھوٹ بولنے کے بغیر کامیابی نہیں ہوسکتی ہے ۔ چنانچہ بیرسٹر صاحب نے مستقل طور پر وکالت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ اور اس کے جگہ پر سیاست اور کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ بیرسٹر سیف اللّٰہ خان سابقہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دیرینہ دوست تھے ۔ 4 اپریل 1964 کو بحثیت ممبر قومی اسمبلی نے اپنی بیگم کلثوم سیف اللہ خان جو اسوقت اپوا کی سربراہ تھی۔ لاہور میں ایک کانفرنس میں چھوڑ کر خود قومی اسمبلی کے ہال پہنچ گئے ۔ اور اس اسوقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی غیر موجودگی کی وجہ سے بیرسٹر سیف اللہ خان نے اس کی نمائندگی کرتے ہوئے دھواں دھار تقریر کی ۔ لیکن دوسری طرف جب وہ اسمبلی سے واپس گھر تشریف لائے ۔ تو دل میں تکلیف محسوس کی۔ جس کی وجہ سے وفات پا گئے ۔ اگلے روز کے اخبارات میں ایک طرف بیرسٹر صاحب کی تقریر اور دوسری طرف موت کی خبر شائع ہوئی ۔ اور یہی تاریخ یعنی 4  اپریل کو بیرسٹر صاحب کے دیرینہ دوست سابقہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موت بھی واقع ہوئی تھی ۔ عہد جوانی میں بیرسٹر صاحب کی موت کی وجہ سے ان کے بچوں کی پرورش ، کاروباری زمہ داریوں اور سیاسی خلا کو پر کرنے کیلئے ان کی اہلیہ بیگم کلثوم سیف اللہ خان آگے بڑھیں اور بیگم صاحبہ نے جس پامردی کے ساتھ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے بچوں کی جس طرح سے پرورش کی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ۔ آج ان کے تمام بیٹے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں ۔ بیگم کلثوم سیف اللہ خان صاحبہ کی چند باتیں قابل ذکر ہیں ۔ (1) جوانی میں اپنے نامدار شوہر کی اچانک وفات اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر بہت افسوس کے ساتھ روئی تھیں ۔(2) اے این پی ANP کے سابق سربراہ عبدالولی خان پر جب غداری کا الزام لگایا گیا تو موصوفہ نے اس کی پرزور مذمت کرتے ہوئے انھیں محب وطن قرار دیا تھا ۔ (3) سابقہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عظیم لیڈر کہنے کے باوجود اس کو بدقسمت خاندان کا فرد قرار دیا تھا ۔ اور جس دن اس نے یہ جملہ کہا ۔ کہ میری کرسی بہت مضبوط ہے ۔ اس دن سےاس کا زوال شروع ہوا ۔(4) سابقہ وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد مولانا مفتی محمود کو وہ ایک درویش صفت انسان ملنسار اور زمین پر انسان کی شکل میں فرشتہ تصور کرتے تھے ۔ بیرسٹر سیف اللّٰہ خان کی وفات کے 8سال سال بعد مروت قوم کے تورگند کے مشران پر مشتمل ایک جرگہ بیگم صاحبہ کے پاس آیا۔ اور بیگم صاحبہ سے مطالبہ کیا۔ کہ آپ صاحبہ ہمیں سب سے بڑے بیٹے ہمایون سیف اللہ خان کو ہمارے حوالے کریں۔ کیونکہ ہم اسے اپنے علاقے کا نمائندہ بنانا چاہتے ہیں۔ انکار کی صورت میں سپین گند ہم سے سیاست پر قابض ہوجائیں گے۔ با امر مجبوری بیگم صاحبہ نے ان کی بات مان لی۔ اور ہمایون سیف اللہ خان اوائل جوانی میں سیاست میں آگئے۔ ہمایون سیف اللہ خان 7 نومبر 1943 کو پیدا ہوئے تھے۔ بیرسٹر صاحب کے وفات کے وقت اس کی عمر تقریباً 20 سال تھی۔  ہمایون سیف اللہ خان نے جوانی میں الیکشن میں حصہ لیا۔ اور الیکشن میں کامیابی کے بعد بطور صوبائی وزیر تعمیرات وپبلیک ہیلتھ مقرر ہوئے۔ ہمایون سیف اللہ خان حقیقی معنوں میں سیف اللہ خاندان کے سیاسی عمارت کے معمار ہیں۔ وہ سادہ مزاج، مردم شناس ، عوامی سیاست کرنیوالے اور حقیقی معنوں میں مروت قوم کے افراد کی دلوں پر راج کرنے والے لیڈر ہیں۔ ان کے دو باتوں کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ موجودہ MPA حاجی انور حیات خان کے والد صاحب حاجی نعمت اللہ خان کے ساتھ ان کی دلی محبت تھی ۔ ان کی زندہ مثال کہ جب حاجی نعمت اللہ خان کے بیمار ہونے اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے بولٹن بلاک میں داخل ہوئے ۔ میں اور حاجی عظیم خان تترخیل ان کی بیمار پرسی کیلئے ہسپتال گئے ۔ اس موقع پر میں نے حاجی نعمت اللہ خان سے پتہ کیا ۔ کہ آپ صاحب حاجی نعمت اللہ خان کی بیمار پرسی کیلئے ہمایون سیف اللہ خان ہسپتال کو تشریف لائے ہیں ۔ اس نے جواب…

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے