واشنگٹن (مانند نیوز ڈیسک) امریکی صدر جوبائیڈن نے چین کوخبردارکیا ہے کہ اگریوکرین میں فوجی کارروائی کے معاملے پر روس کا ساتھ دیا تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے جبکہ چینی صدر نے بھی جوبائیڈن کو تائیوان کے معاملے پر باز رہنے کا کہا۔امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب سے دو گھنٹے ویڈیو لنک پر بات کی جس میں جوبائیڈن نے واضح کیا کہ اگر چین نے روس کا ساتھ دیا تو نہ صرف اسے امریکا بلکہ پوری دنیا کے ردعمل کا سامناکرنا پڑے گا۔ اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ روس کی طرح امریکا چین پر بھی پابندیاں عائدکرسکتا ہے۔ ویڈیو لنک پر بات چیت میں چینی صدرشی نے زور دیا کہ یوکرین کے بحران کی اصل وجہ سمجھنے کیلئے امریکا اور نیٹو روس سے مذاکرات کریں اور روس اور یوکرین کے سکیورٹی تحفظات دور کیے جائیں۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ بلاتفریق پابندیوں سے روس میں عام عوام کو مسائل برداشت کرنا پڑرہے ہیں، اگریہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔صدر شی نے زوردیا کہ سرد جنگ کی ذہنیت ترک کی جائے جبکہ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ دور سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں جورکاوٹیں حائل ہیں وہ نہ صرف دور نہیں کی گئیں بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی خطرناک ہے کہ امریکا میں بعض افراد تائیوان میں آزادی پسندقوتوں کو غلط سگنلز دے رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تائیوان معاملے کو مناسب انداز سے حل نہ کیا گیا تو اس کے دونوں ملکوں کے تعلقات پرتباہ کن اثرات ہوں گے، امریکا چین کے اسٹریٹیجک ارادوں کو غلط رنگ دے رہا ہے، اختلافات ختم تونہیں ہوں گے تاہم انہیں مینیج کرناچاہیے۔ جوبائیڈن کاکہناتھاکہ تائیوان پرامریکا کاموقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔