چترال (مانند نیوز ڈیسک) بلدیاتی انتحابات کے دوسرے مرحلے میں اپر اور لوئیر چترال کے دونوں اضلاع میں حکمران پارٹی کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن آفس کے مطابق ضلع اپر چترال میں تحصیل مستوج کے چئیرمین شپ کی نشست کیلئے پاکستان تحریک انصاف کا نامزد امیدوار سردار حکیم نے 12599 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے گئے۔ اسی نشست کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر نامزد امیدوار امیر اللہ نے 6764 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر آئے۔ سہروردی خان نے 5702 ووٹ لئے، پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر نامزد امیدوار پرویز لال نے 3643 ووٹ لئے اور آزاد امیدوار ناصر علی شاہ نے 1155 ووٹ لئے۔ تحصیل تورکہو ملکہو کے تحصیل چئیرمین شپ کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار میر جمشید الدین نے 8402 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے۔اسی نشست کیلئے اس کے قریبی حریب جماعت اسلامی کے مولانا جاوید نے 6695 ووٹ لئے جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار مولانا فتح الباری نے 6636 ووٹ لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار مستنصر الدین نے 6233 ووٹ لئے اور آزاد امیدوار فخر الدین نے 3222 ووٹ لئے۔ضلع لوئیر چترال میں تحصیل چترال کی چئیرمین شپ کی نشست کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار شہزادہ امان الرحمان نے 25606 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ اس کے قریبی حریف جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر نامزد امیدوار سابقہ ایم پی اے مولوی عبد الرحمان نے 13285 ووٹ لئے پاکستان پیپلز پارٹی کے قاضی فیصل احمد سید نے 12561 ووٹ لئے، جماعت اسلامی کے وجیہ الدین نے 10978 ووٹ لئے، آزاد امیدوار رشید احمد نے 1227 ووٹ لئے،آزاد امیدوار امیر اللہ نے 698 ووٹ لئے ضلع لوئیر چترال کے تحصیل دروش میں تحصیل چئیرمین شپ کی نشست کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار شہزادہ خالد پرویز نے8125 ووٹ لئے اور تحصیل نظامت کیلئے کامیاب قرار پائے۔ ان کے قریبی حریف پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار حاجی محمد سلطان نے 8045 ووٹ لئے، آزاد امیدوار شیر محمد نے 7860 ووٹ لئے، اے این پی کے خدیجہ سردار نے 5679 ووٹ لئے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پی پی پی کے نامزد امیدوار شہزادہ خالد پرویز تحصیل دروش کی نظامت کیلئے کامیاب لگتے ہیں تاہم ایک پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ آنا ابھی باقی ہے۔ چترال میں انتحابی عمل نہایت امن و امان سے گزرا۔ بعض پولنگ اسٹیشن پر نامزد امیدواروں نے شکایت کی کہ انتظامیہ نے ایک امیدوار کی بیوی کی ڈیوٹی اسی پولنگ اسٹیشن میں لگائی تھی جہاں اس کیلئے ووٹ کاسٹ ہورہا تھا۔جس کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے ووٹنگ کا عمل بند رہا تاہم بعد میں ووٹ کا عمل دوبارہ شرو ع کیا گیا۔