بٹ خیلہ (مانند نیوز ڈیسک) ضلع ملاکنڈ کے تین تحصیلوں میں چئیرمین شپ کی نشستوں پراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کی بھاری اکثریت سے کامیابی، دو تحصیلوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسرے میں جماعت اسلامی کے امیدوار دوسری نمبر پر، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کے نتائج کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا ہے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق تحصیل بٹ خیلہ میں پی ٹی آئی کے امیدوار ناصر علی نے 15994 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مد مقابل پی پی پی کے فیاض گل 13199 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے، تحصیل تھانہ بائیزئی میں بھی پی ٹی أئی کے افضل حسین نے 12197 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مد مقابل جماعت اسلامی کے شہاب حسین نے 6482 ووٹ حاصل23909 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تحیصل درگئی میں ایم پی اے پیر مصوری غازی کےبھائی پیر اسلام غازی نے23909 ووٹلیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل پی پی پی کے امیدوار احمد علی شاہ نے 16835ووٹ لیکر دوسرے پوزیشن حاصل کی پیپلز پارٹی تحصیل بٹ خیلہ کے امیدوار فیاض گل کے بھائی صمد گل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نتائج کو مسترد کردئے ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ ایک پولنگ اسٹیشن کے تین پیٹیاں انتظامیہ نے غائب کردی ہے جس کے خلاف ان کے بھائی نے الیکشن کمشنر اور اے ڈی سی ملاکنڈ کے پاس شکایات درج کی ہے، اے این پی تحصیل بٹ خیلہ کے امیدوار اعجاز علی خان نے بھی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات بارہ بجے سے پہلے وہ ایک نمبر پر تھا بارہ کے بعد دوسری نمبر پر چلا گیا اور صبح تیسری نمبر پر چلا گیا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ بٹ خیلہ میں خواتین پولنگ اسٹیشن میں پریزائڈنگ افیسر نے ان کی پولنگ ایجنٹوں کو گنتی سے باہر کرکے پی ی ٹی آئی والوں کو ساتھ بٹھاکر دھاندلی کی ہے جس کے خلاف انہوں نے روڈ کو بند کرکے احتجاج بھی کردیا ہے اور مزید قانونی کاروائی بھی کریں گے، دوسری طرف مختلف ویلیج اور نیبر ہوڈ کونسلوں کی طرف سے ریٹرنگ افسران کے پاس دوبارہ گنتی کے لیے درخواستوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس پر قانون کی مطابق کاروائی ہوگی درخواستوں میں سے بیشتر کی طرف سے پولنگ ایجنٹ کے موجودگی کے بغیر گنتی اور انتظامیہ کی جانداری کی شکایات کی گئی ہے۔