سوات (مانند نیوز ڈیسک) سوات انتظامیہ اورٹرانسپورٹرزکے مذاکرات ناکام ہو گئے ٗ ٹرانسپورٹروں نے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا، نیک پی خیل اڈہ میں پہیہ جام ہڑتال کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنارہا، ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات کے حق میں ڈٹ گئے، معاملہ اعلیٰ سطح پر حکومتی وسرکاری حکام تک پہنچانے کافیصلہ ٗ مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں کمشنراورڈپٹی کمشنر کے دفاترکے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کی دھمکی تفصیلات کے مطابق اڈہ ٹھیکیدار کی طرف سے نیک پی خیل اڈہ کے منشیوں کوہٹانے پرٹرانسپورٹرز سراپااحتجاج بن گئے اور انہوں نے گاڑیاں احتجاجاً اڈہ میں کھڑی کرکے ہڑتال کردی کہ اس دوران اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی سہیل احمد نیک پی خیل اڈہ پہنچ کر ان سے مذاکرات کی تاہم مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اے سی اڈہ سے واپس چلے گئے، جس کے بعد ٹرانسپورٹروں نے شدید احتجاج کیااورٹھیکیدار کے خلاف نعرہ بازی کی اس موقع پر ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے صدر خائستہ باچا، اکرام خان، افضل خان، مکرم خان، عالم گیرخان، عمرشیرلالہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی غیرقانونی کام نہیں کررہے ہیں، ڈرائیوروں نے اپنے سہولت کیلئے اپنے خرچہ پر اڈہ میں منشنی مقررکررکھی ہے جس پر اڈہ ٹھیکدار افضل کو اعتراض ہے اور ان کوہٹانے کے درپے ہیں یہ کونسا انصاف ہے کہ اگرکوئی اپنے نئے ذاتی خرچہ پر کسی ملازم کو رکھے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوناچاہئے، انہوں نے کہا کہ ڈرائیوروں نے اپنے خرچہ پر منشی رکھے ہوئے ہیں جن کو ٹھیکیدار ہٹاناچاہتے ہیں جو کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ فوری طورپرحل کیاجائے بصورت دیگرہم بھرپور احتجاج کرینگے، انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ہم ڈی سی اورکمشنرکے دفاترکے سامنے احتجاجی دھرنادیں گے، پرامن دھرنے کے بعدبھی اگرمسئلہ حل نہ ہواتو اعلیٰ سطح پر حکومتی وسرکاری حکام تک اپنامسئلہ پہنچائیں گے اورآخری حد تک جائیں گے، گاڑیوں کواحتجاجاً کھڑاکرکے ہڑتال کومزیدوسعت دی جائے گی۔