کبل(مانند نیوز ڈیسک)سوات کے علاقے کبل میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں اب تک 14 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے جن میں 9 شہدا کے جسد خاکی سنٹرل ہسپتال سیدو شریف جبکہ 5 شہدا کے جسد خاکی کی تصدیق کبل ہسپتال کے ڈاکٹر صاحبان کی جانب سے کردی گئی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 شاہ فہد کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سوات شعیب منصور کی نگرانی میں ریسکیو 1122 سوات امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ریسکیو آپریشن میں ریسکیو1122 سوات کی 13 ایمبولینسز اور 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ ریسکیو1122 نے 15 سے زائد زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب ہونے والے مبینہ خودکش دھماکے میں 5 افراد شہید جبکہ 15 دیگر زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے گیٹ کے قریب زور دار دھماکا اس وقت ہوا جب کبل چوک میں مقامی نوجوانوں کا احتجاج جاری تھا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر کبل کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق دھماکے میں 5 افراد شہید جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں بہتر علاج کے لیے بڑے طبی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی مالاکنڈ سید فدا حسین نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور مبینہ طور پر کبل پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کو بروقت روک لیا، جس کے بعد اس نے پولیس اسٹیشن کے گیٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حکام کے مطابق اسی بروقت کارروائی کے باعث حملہ آور پولیس اسٹیشن کے اندر داخل نہ ہو سکا، جس سے ممکنہ طور پر مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
ڈی پی او سوات محمد عمر کے مطابق دھماکے کی جگہ سے ایک انسانی سر بھی ملا ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مبینہ خودکش حملہ آور کا ہو سکتا ہے۔
فرانزک ماہرین اور بم ڈسپوزل یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ دھماکے کی نوعیت، استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد اور حملہ آور کی شناخت کا تعین کیا جا سکے۔
واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ پولیس اسٹیشن اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابتدائی معلومات کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں۔ مزید شواہد اور فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد واقعے کی مکمل نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے بارے میں باضابطہ معلومات جاری کی جائیں گی۔