کراچی (مانند نیوز ڈیسک) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعتراف کیا کہ ہمیں دنیا سے قرض لینے میں مشکل ہورہی ہے اب مانگتے ہوئے شرم بھی آتی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کراچی چیمبر آف کامرس پہنچے، جہاں صدرکراچی ادریس میمن،زبیر موتی والا سمیت بزنس کمیونٹی نے ان کا استقبال کیا۔وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر سپلائی اور ڈیمانڈ پر اوپر نیچیجاتا ہے، ہمیں دنیا سے چیزیں چاہییں لیکن برآمد کے لیے کوئی چیزنہیں۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سی کے ڈی گاڑیوں، ہوم اپلائنس اور موبائل فونز پر پابندی ستمبرتک نہیں ہٹائیں گے، ایل سی روکنے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیے، ملک میں ایل سی کا نظام بہتر ہے، تمام امپورٹرز کیلییایل سی کھل رہی ہیں، تین دن میں امپورٹرز کیلئے ایل سی کھل جاتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ڈالر کی قیمت میں میں نے یا اسٹیٹ بینک نے کوئی مداخلت نہیں کی، ڈالرکوبھی ہم کنٹرول میں لیآئے ہیں، ہم نے 30ارب ڈالر کی برآمدات بھیجی ہیں، پاکستان کی درآمدات 80ارب ڈالر رہیں۔بجلی کی پیداوار کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ن لیگ دور میں بجلی کی پیداوار14 ہزار سے 25ہزار میگا واٹ تک لے گئے تھے، بجلی کی پیداوار دگنی ہوئی اس حساب سے صنعتی پیداوار نہیں بڑھی۔ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا نے بھی پیٹرول کی قیمت کم کی تھی،ڈیفالٹ پرچلیگئے، بنگلہ دیش میں 308روپے لیٹرپیڑول ہو گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں دنیا سے قرض لینیمیں مشکل ہورہی ہے اور اب تو شرم بھی آتی ہے، دبئی اور سعودی عرب کے پاس جاؤ تو کہتے ہیں آئی ایم ایف سے ڈیل کرلو، کبھی کہتے ہیں شہباز شریف سے فون کرادو۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جس کیپاس جاتیہیں وہ کسی اورکیپاس جانیکامشورہ دیتاہے، ملک کوڈیفالٹ نہیں ہونیدوں گا لیکن اس عمل میں غلطیاں تو ہونگیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی فنڈنگ سیمتعلق کافی پیش رفت کی ہے، متحدہ عرب امارات بھی ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کریگا۔انھوں نے بتایا کہ پرتعیش گاڑیاں پاکستان منگواکر رقم ڈالرمیں واپس باہربھیج دی جاتی ہے، منگوائی گاڑیوں کے99فیصدپیسیواپس بھیج دییجاتیہیں ورنہ یہاں ڈالرہی ڈالرہوں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے ملک کو ڈٖیفالٹ ہونیسیبچایا ہے، ستمبر تک صرف ایکسپورٹرزکوتھوڑی امپورٹ کی اجازت ہے اور ایکسپورٹ میں استعمال چیزوں کے بارے میں کسٹم ہمیں تفصیلات دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 30ارب ڈالر کی برآمد میں بڑا حصہ ٹیکسٹائل کا ہی ہے، 1992 میں کوریا اور پاکستان کی برآمدات ایک جیسی تھیں،مفتاح اسماعیلڈالر کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ڈالر طلب و رسد پر چلتا ہے جس دن زیادہ ڈالر آجائے تو اس کی قیمت کم ہو جاتی ہے، جن چھوٹے بینکوں نے اگر غلط کام کیا ان کے خلاف ایکشن ہوگا، ایک دن میں ڈالر دس روپے اوپر نیچے نہیں ہونا چاہیے.وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دنیا مشکل ترین حالات میں ہے، جس ملک سے جن نرخوں پر تیل خریدتے ہیں اس سے سستا بیچ رہے ہیں، کوویڈکیدوران ایل این جی 4ڈالرکی مل رہی تھی، بجلی بلوں پر 300 یونٹس چھوٹ، 96 فیصد ہے، میں گھر چلاتا ہوں۔مہنگائی سے متعلق انھوں نے کہا کہ پاکستان کیعوام نیہماراساتھ دیا، جون اورجولائی میں مہنگائی ہوئی ابھی تھوڑی کمی آئی ہے۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج 25ہزارمیگاواٹ کیقریب بجلی بنتی ہے، ہمیں ابھی بھی بجلی پیداوارکی گنجائش بڑھانی ہے، بجلی کی پیداوارتوبڑھ رہی ہیکیاصنعتیں بھی اسی رفتارسیبڑھ رہی ہیں؟انھوں نے بتایا کہ ہم نے5لاکھ ٹن گندم درآمدکی،ہمیں کھاددرآمدکرنی پڑرہی ہے، ہماری زرعی پیداوارمیں مجموعی طورپرکمی ہے، 5سے6ارب ڈالرکاخوردنی تیل اس سال درآمد کرنا پڑے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 1996سیآج تک 450ملین ڈالرواپس نہیں کرسکے، ہم نے450ملین ڈالرواپس نہیں کیے تو دینے والے سے مزید مانگتیہوئیشرم آتی ہے، کاش ہماری برآمدات 80ارب ڈالراوردرآمدات30ارب ہوتی توکوئی مشکل نہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجٹ خسارہ ہوتوحکومت کوپیسیلینیپڑتیہیں،نجی سیکٹرسیبیرون ملک سیپیسے لینیپڑتیہیں، عمران خان نیاچھی چیزیں کی ہونگی میں اس کی نشاندہی نہیں کروں گا، عمران خان نے ملک کا قرض 75فیصدبڑھادیا، ہم 25ہزارارب چھوڑکرگئیعمران خان نے45ہزارارب تک قرض بڑھادیا اور اس کیساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب پیسیلییہیں توکبھی نہ کبھی توواپس کرنیپڑیں گے، ہم پیسیلیتیرہیلیکن ہماری برآمدات دگنی نہیں ہوئیں، ہم لوگوں نیپیداواری کام نہیں کیا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ گاڑیوں اورموبائل فونزسمیت 2چارچیزوں کی درآمدپرپابندی رہیگی، میری پہلی ترجیح مہنگائی کم کرنانہیں ملک کودیوالیہ ہونیسیبچاناتھا، ستمبرتک مشکلات رہیں گی۔تاجروں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ آئندہ کچھ دنوں میں تاجروں کیلییمزیدآسانیاں ہونگی، فکس ٹیکس 300 اسکوائرفٹ سے کم کی دکانوں پر لگے گا، کمرشل بجلی کچھ عرصے بعد سستی ہوجائے گی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ تک تنخواہ پرٹیکس کی شرح 5سیکم کرکیڈھائی فیصدرکھی، ملک چلاناہیتوٹیکس جمع کرناپڑیگا، 4ہزارارب روپیاس اس سال ٹیکس کی مدمیں دیناپڑیں گے، گزشتہ سال بھی ایف بی آرنیہدف سیزیادہ ٹیکس وصولی کی۔ایکس چینج کمپنوں کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایکس چینج کمپنیاں معیشت میں اہم کرداراداکررہی ہیں، ایکس چینج کمپنیاں روزبڑی مقدارمیں ڈالراسٹیٹ بینک میں سرینڈرکررہی ہیں، ایکس چینج کمپنیوں کے بنا پاکستان نہیں چلایا جاسکتا، ایکسچینج کمپنیوں ہی کہ وجہ سے روز ڈالر اسٹیٹ بینک میں ڈیکلیئر کیے جاتے ہیں۔فکس ٹیکس پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ چھوٹیتاجروں پرہم نیایک فکس ٹیکس ڈالاتھا، ہمیں اندازہ نہیں تھاکہ فکس ٹیکس سے چھوٹے دکاندار متاثرہوں گے، دکانداروں پر سیلز ٹیکس لگانے فیصلہ میری غلطی تھی، میراخیال تھاکہ ایک دکاندارروز100روپے سے3ہزارروپے ٹیکس دے گالیکن جو گلی میں دوکان ہے وہ 3ہزار روپے کیسے دے گا،انھوں نے بتایا کہ ہم فکس ٹیکس سے ہٹ گئیہیں، ہمارا42ارب روپے کاٹیکس تھا،اب ہم 33ارب کاٹیکس لیرہیہیں، اس سال 35ارب روپے کاٹیکس جمع کرنے کا ٹارگٹ ہے، تمام چیمبرز والیمیرٹارگٹ غلط کریں اور36ارب جمع کرکے دکھائیں۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ہفتہ ہفتہ پیٹرول کی قیمت کم زیادہ کرنیکی تجویزہماری تھی،آئی ایم ایف کی نہیں تاہم اسٹیٹ بینک کے گورنر جلدتعینات ہوجائیں گے۔