چکدرہ (نمائندہ مانند) یونیورسٹی آف ملاکنڈبرطرف ملازمین سڑکوں پر نک آئے۔طویل عرصہ تک کوئی دوسرا روزگار نہ کرنے پر اب ہم کہاجائے، اس عمر میں دوسرا کام کرنا ممکن ہی نہیں۔روزانہ اجرت پر پہلے ہی چند ہزار ماہانہ کمانے والے فارغ اور لاکھوں تنخواہ والے براجمان ہے، فارغ ملازمین۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے برطرف ملازمین نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ایچ ای ڈی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ ان تمام کو فوری طور پر بحال کیا جائے بصورت دیگر وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس فیصلے کے خلاف احتجاج شروع کر دیں گے۔صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے برطرف ملازمین کے نمائندوں نے ملازمین کی برطرفی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ملازمین کی اکثریت کو معیار پر پورا اترنے کے بعد تعینات کیا گیا ہے۔UOM نے سینیٹ کے فیصلے کے مطابق 5 اگست کو یونیورسٹی کے 146 ملازمین کو برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جنہیں واک اِن انٹرویو کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا۔ان میں مختلف شعبہ جات کے 36 لیکچررز، ڈرائیور، سویپر، کلرک، کمپیوٹر آپریٹر، اکانٹس اسسٹنٹ، چوکیدار، باغبان، لیبارٹری اٹینڈنٹ وغیرہ شامل تھے۔یکم اگست کو جاری ہونے والے یو او ایم کے ایک اور نوٹیفکیشن کے مطابق، "سینیٹ نے 20 ستمبر 2021 کو ہونے والے اپنے ہنگامی اجلاس کے دوران واک ان انٹرویو کے ذریعے بھرتی کے طریقہ کار کو غیر منصفانہ، شفاف اور مسابقتی قرار دیا تھا۔ وضاحت کی گئی ہے کہ سینیٹ نے ان تمام ملازمین کی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے برطرف کرنے کا حکم دیا تھا۔ برطرف ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ بھرتی کے لیے انٹرویو کے عمل سے گزرے تھے اور پھر تین سال تک خدمات انجام دیں۔ انہوں نے HEC اور UoM VC سے مطالبہ کیا کہ ان کی برطرفی کا حکم فوری واپس لیا جائے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے