اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے کہا ہے کہ امریکی سفیر صوبوں کی حکومتوں سے ملتے ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں، حساس ایریا پر کس معاہدے کے تحت امریکی سفیر جا کر دورہ کرتے ہیں؟،نواز شریف، مریم نواز اور خواجہ آصف کے خلاف بھی غداری کے مقدمات بنائے جائیں۔ شیریں مزاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس پر لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے عمران خان کو خط لکھا کہ 1996 سے اکاؤنٹ کی تفصیلات دیں جبکہ ایف آئی اے کسی ممنوعہ فنڈ کی تحقیقات نہیں کرسکتا اور تحقیقات کرنا ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اور کچھ نہیں مل رہا تو جھوٹ بول رہے ہیں۔ اسکروٹنی کمیٹی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے لیے ہی بنی تھی جو 2018 میں بنائی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن پاکستان(ای سی پی)سمجھ رہی ہے کہ لوگ یہ سچ بھول جائیں گے اور الیکشن کمیشن سراسر قانون کے خلاف فیصلہ کر رہا ہے۔شیریں مزاری نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی سب جماعتوں کے کیسز سنے جائیں گے لیکن چیف الیکشن کمشنر سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ دیں پھر کوئی بات چیت ہوگی، 4 مہینے میں جو پاکستان کا حشر کردیا ہے وہ ساڑھے 3 سال میں نہیں ہوا تھا۔ امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہماری حکومت کو ہٹانے کی سازش کی۔ امریکی سفیر صوبائی اور وفاقی حکومت سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور وہ کس معاہدے کے تحت پاک افغان سرحد کا جائزہ لے سکتا ہے؟ ہمارے سفیر دوسرے ممالک کے حساس جگہوں پر نہیں جا سکتے ہیں۔ ہماری حکومت میں وزیراعظم سے کوئی سفیر نہیں ملتا تھا، ایک پروٹوکول ہوتا ہے۔ انہوں نے زیر حراست پی ٹی آئی رہنما شہبازگِل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریمارکس لینڈ لائن پر دیے پھرفون کیوں چاہیے؟ شیریں مزاری نے کہا کہ کل، پرسوں بھی کوشش کی گئی کہ شہبازگِل کو اڈیالہ سے نکال کر پمز لا کر تشدد کیا جائے، رانا ثناء اللہ کچھ عقل کرو، آپ کی ساری عمر غنڈا گردی میں گزری ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ اگر شہباز گِل نے قانون کے خلاف ورزی کی ہے تو ان پر کیس کریں، ایک شخص کو اٹھا کر نامعلوم جگہ پر رکھ کر تشدد نہیں کرسکتے، شہبازگِل کے جسم پر تشدد کے نشان ہیں، انہیں پانی نہیں ملا، سونے نہیں دیا گیا۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ شہباز گِل کے ڈرائیور کی اہلیہ کا کیا قصور ہے؟رانا ثناء اللہ ہم آپ سے ڈرنے والے نہیں، ہم انصاف کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے پی ٹی آئی کا تمام ریکارڈ کس حیثیت سے مانگ رہا ہے؟ انہوں نے پیڑولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز رو رہی ہیں کہ ہم نہیں مانتے، میرا ڈیڈی نہیں مانتا، ڈیڈی پاکستان آئے، جیل کاٹے، اپنے بھائی کو ہٹائے، وہ کیوں نہیں آ رہے،کس نے روکا ہے؟پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ نواز شریف، مریم نواز اور خواجہ آصف کے بیانات سب کے سامنے ہیں ان تینوں پر بھی غداری کے مقدمات بنائے جائیں۔